طیارہ تحویل میں لیے جانے کے بعد امارات نے صومالیہ کی فوج تیار کرنے کا مشن ختم کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ صومالیہ کی فوج بنانے کے سلسلے میں 2014ء میں امارات کی تربیت کار فورسز کی جانب سے شروع کیا جانے مشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ 8 اپریل بروز اتوار موگادیشو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صومالیہ کے سکیورٹی حکام کی جانب سے امارات میں رجسٹرڈ ایک نجی سِول طیارے تحویل میں لیے جانے کے واقعے کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ طیارے میں اماراتی فورسز کے اہل کار سوار تھے۔

امارات نے واقعے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممالک کے درمیان سفارتی روایتوں کے متضاد اور امارات اور صومالیہ کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔

اماراتی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق فیصلے کو صومالیہ کے بعض سکیورٹی ارکان کے اس اقدام سے بھی جوڑا جا رہا ہے جس میں انہوں نے صومالیہ کی فوج کی سپورٹ اور تربیتی اہل کاروں کی تنخواہوں کے لیے مختص مالی رقوم پر قبضہ کر لیا تھا۔

امارات اور صومالیہ کے درمیان متبادل احترام پر مبنی تاریخی نوعیت کے تعلقات ہیں۔ امارات نے صومالیہ کی سکیورٹی فورسز اور فوج کے لیے ہزاروں اہل کاروں کو تربیت دی۔ اس کے علاوہ امارات 2407 صومالی فوجیوں کی تنخواہیں ادا کر رہا ہے اور اس نے صومالیوں کے علاج کے واسطے ہسپتال اور اماراتی طبی ٹیمیں بھی بنائیں۔

متحدہ عرب امارات دہشت گردی اور قزّاقی کے انسداد کے سلسلے میں پونٹلینڈ صوبے میں سمندری پولیس کے پروگرام کی بھی نگرانی کر رہا ہے۔ اس نے صومالیہ کے سکیورٹی اور عسکری اداروں کے معیار کو بلند کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں