موریتانیہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے اسپتالوں کا نظام مفلوج، مریض خوار

حکومت ڈاکٹروں کےجائز مطالبات پورے کرنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقا کے عرب ملک موریتانیہ میں ڈاکٹروں نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کر رکھی جس کے باعث اسپتالوں میں طبی سروس کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے ڈاکٹروں کی ہڑتال پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موریتانیہ میں ڈاکٹروں نے گذشتہ تین روز سے ہڑتال شروع کر رکھی ہے اور وہ اسپتالوں میں نہیں آرہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ اسپتالوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔

موریتانیہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال اور کام کے بائیکاٹ کا یہ پہلا اقدام نہیں بلکہ طبی عملہ پہلے بھی احتجاج کرتا رہا ہے۔ صدر مملکت محمد ولد عبدالعزیز نے ڈیڑھ ماہ قبل اپنے مشیر اور وزیر صحت پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے ذمہ ڈاکٹروں کے مطالبات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا تھیں۔ صدر نے ڈاکٹروں کو ان کے تمام جائز مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا جس کے باعث ڈاکٹر ایک بار پھر ہڑتال پر مجبور ہیں۔

ہڑتال کرنےوالے ایک ڈاکٹر محمد سالم ولد ذویب نے کہا کہ صدر کی جانب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ان سے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا عہد کیا تھا مگر ان کے مطالبات پورے نہ ہونے کے باعث وہ ایک بار پھر ہڑتال پر مجبور ہوئے ہیں۔

ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرے، ان کے اقارب کے مفت علاج کی سہولت فراہم کرے، اسپتالوں میں طبی سہولیات کا نظام بہتر بنایائے اور ضرورت مند مریضوں کو مفت ادویات مہیا کی جائیں۔

ڈاکٹر ولد ذویب نے کہا کہ اسپتالوں میں طبی سہولیات کا اس حد تک فقدان ہے کہ ڈاکٹروں کے سامنے مریض مررہے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریضوں کے پاس زندگی بچانے کے لیے دوائی خرید کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے اور موت کے منہ میں موجود مریض کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹر اپنی جیب سے رقم خرچ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں