ایران خطے میں امریکا کا پہلا ہدف ہونا چاہیے: امریکی تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایران مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے امریکا کے مفادات اور اسرائیل سمیت اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

یہ بات ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے مشرقِ وسطیٰ امور کے سینیر تجزیہ کار مائیکل پریجنٹ نے ایک تجزیے میں کہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایران نے عراق میں شیعہ ملیشیاؤں ، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے اور ان کی صلاحیتوں میں اس انداز میں اضافہ کررہا ہے کہ وہ پورے خطے کے استحکام اور سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس نے سب سے پہلے عراق میں مداخلت کی تھی اور اس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی سربراہی میں تین بڑی شیعہ ملیشیاؤں عصائب اہل الحق ، کتائب حزب اللہ ، النجباء تحریک کو منظم اور مضبوط کیا گیا۔

مائیکل پریجنٹ کا کہناہے کہ ’’ یہ ملیشیائیں اب عراقی سکیورٹی فورسز کا قانونی حصہ بن چکی ہیں ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیں قانونی طور پر اس ملک میں لیہہ قانون کی خلاف ورزیوں پر امریکا کا فوجی امداد کا پروگرام ختم کردینا چاہیے۔اس کے تحت امریکا کے محکمہ خارجہ اور دفاع کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث غیرملکی سکیورٹی فورسز کے یونٹوں کو فوجی امداد مہیا کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے‘‘۔

ان کے بہ قول :’’ ہمارے خیال میں خطے میں استحکام کو واپس لانے کے لیے دہشت گردی ، جارحیت اور انسانی حقوق کے مرکزی منبع کا راستہ روکا جانا چاہیے‘‘۔

وہ سابق صدر براک اوباما کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے کو امریکا کے لیے بدترین ڈیل قراردیتے ہیں کیونکہ اس سے ایرانی رجیم کو اعتماد حاصل ہوا اور اس نے زور شور سے اپنی اشتعال انگیز سرگرمیاں شروع کردیں۔وہ شام میں بشارالاسد کی پشتیبانی کررہا ہے اور روس کو بھی اس جنگ میں کھینچ لایا تھا ۔اس نے شام کے ساتھ ا سلحے کی فروخت کے معاہدے کیے اور روس سے فضائی دفاعی نظام خرید کرنے کے معاہدے کو آگے بڑھایا ہے۔

مسٹر مائیکل کہتے ہیں کہ مشترکہ جامع لائحہ عمل کے نام سے اس سمجھوتے کے تحت ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو چلا سکتا ہے بلکہ چلا رہا ہے۔اس سے وہ اقتصادی اور روایتی فوجی طاقت بن سکتا ہے۔اگر ایران دھوکا دہی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ان میزائلوں سے منسلک کرسکتا ہے۔ایران نے جو بھی تخریبی سرگرمیاں انجام دی ہیں ، وہ سب اس سمجھوتے کی چھتری تلے ہی کی ہیں۔

ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کے تحت غیر منجمد ہونے والی اربوں ڈالرز کی رقوم سے پاسداران انقلاب کی القدس فورس کی پروردہ شیعہ ملیشیاؤں کو رقوم ادا کی ہیں اور نئی ملیشیائیں بھی تشکیل دی ہیں جن کو القدس فورس ہی کی جانب سے تن خواہیں اور دیگر رقوم ادا کی جارہی ہیں۔

ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے یہ تجزیہ کار ایرا ن کے ساتھ طے شدہ معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کی وکالت کررہے ہیں ۔اس کے علاوہ انھوں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو خطے میں بااختیار بنایا جائے جبکہ ایرانی رجیم کو اپنے ہی عوام کے غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ایرانی رجیم خطے میں شیعہ ملیشیاؤں کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنی مقامی معیشت پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ سابق صدر اوباما نے ایران پر عاید پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں جو عدم توازن پیدا کیا تھا، ہمیں اس توازن اور دباؤ کو دوبارہ بحال کرنا چاہیے۔ایران کے مرکزی بنک پر دوبارہ پابندیاں عاید کی جائیں اور ایرانی معیشت پر مزید پابندیاں عاید کی جائیں ۔ہمیں ایک مضبوط پوزیشن سے ایران سے مذاکرات کرنا ہوں گے، اوباما انتظامیہ کے کمزور موقف کی طرح بات چیت نہیں کرنی چاہیے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرا ن پر دباؤ بڑھانے کے لیے القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے علاوہ عصائب اہل الحق کے کمانڈر قیس الخزلی ، الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کے نام پابندیاں کا شکار افراد کی فہرست میں شامل کیے جائیں ، صرف یہی نہیں بلکہ عراق اور شام میں ایران کی گماشتہ ملیشیاؤں کا اگر کوئی کمانڈر کسی امریکی فوجی کو قتل کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو اس کا نام خود کار طریقے سے اس ممنوعہ فہرست میں آجانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں