ایران : علی خامنہ ای نے "ٹیلی گرام" پر اپنا چینل بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی علی خامنہ ای کے دفتر کی جانب سے ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ " ٹیلی گرام" پر رہبر اعلی کا چینل بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ ایران میں بکثرت استعمال ہونے والی ایپلی کیشن "ٹیلی گرام" کو بند کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس ایپلی کیشن نے ایرانی نظام کے خلاف حالیہ عوامی احتجاج اور مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

خامنہ ای کے دفتر کی سرکاری ویب سائٹ پر بدھ کے روز جاری بیان میں اس فیصلے کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ٹیلی گرام پر سرگرمیوں کی بندش کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور غیر ملکی ایپلی کیشنوں کی جانب سے برقی اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہے۔

ادھر ایران میں سرکاری میڈیا نے بدھ کی صبح بتایا کہ ٹیلی کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت نے سوشل میڈیا پر ٹیلی گرام کو بلاک کر دیا ہے۔ یہ ایپلی کیشن 4.5 کروڑ کے قریب ایرانی استعمال کرتے ہیں۔

بدھ کی صبح سے ٹوئیٹر پر سرگرم ایرانیوں کی جانب سے ٹوئیٹس کے ذریعے بتایا جا رہا ہے کہ ٹیلی گرام کو بلاک کر دیا گیا ہے اور وہ اسے " VPN" کے ذریعے بھی کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی صدر کے نائب اسحاق جہانگیری نے ٹیلی گرام پر اپنا ذاتی چینل بند کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایرانی صدر حسن روحانی کے اعلان کردہ موقف کے برخلاف ہے جس میں روحانی نے ایپلی کیشن پر پابندی کے حوالے سے اپنی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔

ایران میں سپریم کونسل فار سائبر اسپیس جس پر سخت گیر حلقوں کا قبضہ ہے اس نے حتمی طور پر ٹیلی گرام کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل ایرانی حکام نے 28 دسمبر 2017ء کو شروع ہو کر دو ہفتے تک جاری رہنے والے عوامی مظاہروں اور احتجاج کے دوران عارضی طور پر ٹیلی گرام کو بند کر دیا تھا۔ البتہ 10% ایرانی بندش کو تجاوز کر کے اس ایپلی کیشن کو استعمال کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

ٹیلی گرام ایپلی کیشن ایران میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ مظاہرین کے درمیان معلومات، وڈیو اور تصاویر کے تبادلے کے واسطے رابطے کے اہم ترین آلات میں سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں