.

ایران : ضابطۂ لباس کی پاسداری نہ کرنے والی عورت پر پولیس اہلکاروں کا سرعام تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک عورت کو نافذالعمل ضابطہ لباس کی پاسداری نہ کرنے کی پاداش میں پولیس نے تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کر لیا ہے۔یہ نوجوان عورت اپنی گرفتار ی کی مزاحمت کرتی رہی ہے لیکن پولیس اہلکار اس کے باوجود اس کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔

اس تمام واقعے کی موبائل فون سے بنائی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئی ہے۔اس کے بعد ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی نے پولیس کے خلاف ایک جامع تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس ویڈیو میں خاتون پولیس اہلکاروں سمیت متعدد پولیس اہلکار اس عورت کو ایک عوامی پارک سے زبردستی اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ ان کی مسلسل مزاحمت کررہی ہے۔اس موقع پر ایک اور عورت پولیس اہلکاروں پر چلّاتی ہے اور انھیں کہتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں کیونکہ وہ دل کی مریضہ ہے۔

ایرانی خواتین کے امور کی نائب صدر معصومہ عبتکار نے پولیس کے اس عورت کے ساتھ متشدد سلوک کی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں ضابطہ لباس کے تحت تمام عورتوں کو لمبی آستینوں والی قمیصیں زیب تن کرنی چاہیںی اور سر کو ڈھانپ کر گھر سے باہر عوامی مقامات پر آنا چاہیے۔قانون کے تحت خواتین کا لباس شائستہ اور ستر ڈھانپنے والا ہونا چاہیے۔اس کی خلاف ورزی کی مرتکب عورتوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔