.

سعودی حکومت کا بن لادن گروپ کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے11 ارب ریال کا قرضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خزانہ نے سعودی بن لادن گروپ کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے قریباً 11 ارب ریال( 2.9 ارب ڈالرز ) کا قرضہ جاری کر دیا ہے۔

اس معاملے سے آگاہ سعودی ذرائع نے بتایا ہے کہ بن لادن گروپ یہ رقم حکومت کے ترجیحی نامکمل منصوبوں ، اپنے ملازمین کی واجب الادا تن خواہوں اور قرض دہندگان کی رقوم کی ادائی میں صرف کرے گا۔

ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت مستقبل قریب میں اس بڑے تعمیراتی گروپ کو مزید رقم بھی جاری کرسکتی ہے۔اس کو قرضے کی یہ رقم بن لادن خاندان کی ملکیتی زمین کو ضمانت کے طور پر رہن رکھ کر جاری کی گئی ہے۔

بن لادن گروپ کے عروج کے زمانے میں ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی لیکن سعودی عرب کا یہ بڑا بلڈر گروپ مکہ مکرمہ میں کرین حادثے کے بعد حکومت کی تادیبی کارروائی اور تعمیراتی صنعت میں کساد بازاری کی وجہ سے بحران سے دوچار ہوگیا تھا ۔اس کے بعد گذشتہ مہینوں کے دوران میں اس نے اپنے سیکڑوں ملکی اور غیر ملکی ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔

سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت مملکت میں اراضی کی ترقی ، صنعتی اور سیاحتی منصوبوں کی تعمیر کے لیے اس گروپ کو الریاض حکومت کے لیے بڑی اہمیت حامل ہے اور یہی گروپ انفرااسٹرکچر کے بڑے تعمیراتی منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بن لادن گروپ کے چیئرمین بکر بن لادن اور ان کے بھائیوں صالح اور سعد کو بھی نومبر 2017ء میں دیگر نمایاں شخصیات ، شہزادوں اور سابق اور موجودہ وزراء کے ساتھ بدعنوانیوں کے الزامات میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔اب یہ کہا جارہا ہے کہ سعودی حکومت مالیاتی تصفیے کے طور پر اس کمپنی کی ملکیت میں حصے دار بن جائے گی اور اس کے ذمے واجب الادا رقوم کے عوض اس کے حصص لے لے گی۔

بن لادن گروپ سعودی حکومت کی جانب سے ملنے والی قرضے کی رقم سے سب سے پہلے دارالحکومت الریاض میں شاہ عبداللہ مالیاتی مرکز کا باقی ماندہ تعمیراتی کام مکمل کرے گا۔الریاض میں تعمیر کیا جانے والا سعودی عرب کا یہ نیا کاروباری اور مالیاتی مرکز ہے۔سعودی حکومت 2020ء میں گروپ 20 کے سربراہ اجلاس کی میزبانی سے قبل اس کی ہر طرح سے تکمیل چاہتی ہے۔

بن لادن کے دوسرے زیر تکمیل منصوبوں میں مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی توسیع اور ان کے آس پاس انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں ۔

سعودی وزارتِ خزانہ سے ملنے والی رقم ایک حصے کو بن لادن گروپ کے ذمے واجب الادا مختلف بنکوں کے قرضے چکانے پر صرف کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت خزانہ کے حکام نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں بعض بنکوں کے دورے کیے ہیں اور انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت کی مداخلت کے بعد اس کمپنی کا مستقبل تابناک ہوگیا ہے۔