.

حوثی عدالت سے سزائے موت پانے والی یمنی دوشیزہ کی کہانی!

ایمنسٹی کا اسماء العمیسی کی فوری رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قابض ایران نواز حوثی ملیشیا کی ایک نام نہاد فوجی عدالت نے شفافیت اور فری ٹرائل کے تمام معیارات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک 22 سالہ دو شیزہ کو سزائے موت سنائی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں کسی یمنی لڑکی کو آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب ملک کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 22 سالہ اسماء العمیسی اس وقت صنعاء میں ایک قید خانے میں پابند سلاسل ہیں۔ وہ دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔

سیاسی بنیادوں پر مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے دیگر ان گنت حوثی جرائم میں کسی لڑکی کو اس طرح کی سنگین سزا دینا ان کے جرائم میں ایک نیا اضافہ قرار دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسماء العمیسی کو دی جانے والی سزا پر حوثیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے دی گئی ظالمانہ سزا پر فوری نظر سانی اور اس کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

اسماء کی القاعدہ کمانڈر سے شادی

اسماء العمیسی وسطی شمن کے شہر اب میں السدہ کے مقام پر 7 جولائی 1995ء کو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کی والدہ کا تعلق جنوب مشرقی شہر حضرت الموت کے علاقے المکلا سے تھا۔ العمیسی نے ابھی اسکول کی نو جماعتیں پاس کی تھیں کہ اس کی شادی ایک شخص کے ساتھ کر دی گئی۔ اس شادی سے ان کا ایک بچہ اور بچی پیدا ہوئے۔

آٹھ سال کے بعد اسے طلاق ہو گئی اور دو سال کے وقفے کے بعد اس نے مئی 2015ء کو القاعدہ کے ایک مقامی کمانڈر خلد سالم الصعیری کے ساتھ شادی کی۔ مگر اسماء کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا شوہر القاعدہ کا رکن ہے۔ جب اسے اس کا علم ہوا تو اس نے خلع لینے کی کوششیں شروع کردیں۔ اسماء العمیسی کی زندگی اس وقت اور کھٹن ہوگئی جب فروری 2016ء کو القاعدہ کمانڈر اسے لے کر حضر موت کے پہاڑوں پر چلا گیا اور اس پر ظلم میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

گرفتاری اور تشدد

پانچ اکتوبر 2016ء کو حوثی ملیشیا نے اسماء العمیسی کو المکلا سے صنعاء جاتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ وہ اپنے والد اور دو پڑوسیوں کے ہمراہ صنعاء جا رہی تھیں۔ حوثیوں نے بغیر تحقیق کے ان پر جاسوسی سیل قائم کرنے کا الزام تھوپ دیا۔

گرفتاری اور جیل میں ڈالا جانا اسماء کے لیے ایک نئی آزمائش تھی۔ اسے دیگر افراد کے ساتھ حراستی مراکز میں ڈال دیا گیا جہاں ان پر انسانیت سوز تشدد کا سلسلہ شروع ہوا۔ غیرانسانی سلوک کا سامنا کرنے کے ساتھ ان کے خلاف ایک نام نہاد فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

دوران حراست اسماء العمیسی کو جسمانی اور ذہنی تشدد کے ساتھ مسلسل بیدار رکھا جاتا۔ اس کے والد کو اس کے سامنے اذیتیں دی گئیں۔ دیگر افراد کو بھی اس کے سامنے تشدد کیا نشانہ بنایا جاتا اور اسماء سے کہا جاتا کہ وہ انہیں تشدد کا نشانہ بنتا دیکھے۔ اس کے والد دوسرے اقارب کو چھت کے ساتھ الٹا لٹکا کر بدترین طریقے سے مارا پیٹا جاتا۔

چھبیس جون 2017ء کو اس کے والد کو بھاری رقم کے عوض رہا کر دیا گیا۔ جیل انتظامیہ نے متعدد بار اسماء سے بھی کو بھی 30 ملین یمنی ریال کے بدلے میں رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر اسے رہا نہیں کیا گیا۔

سزائے موت

تیس جنوری کو حوثیوں کی ایک عدالت سے اچانک فیصلہ جاری ہوا جس میں اسماء، سعید محفوظ الرویشد اور احمد عبداللہ کو سزائے موت اور اسماء کے والد کو جاسوسی کے الزام میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سزا پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی نے سخت احتجاج کیا ہے اور تمام محرویسن کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حوثی عدالت سے اسماء کو نہ صرف سزائے موت سنائی گئی ہے بلکہ انہیں ایک سو کوڑے مارنے کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔