.

سعودی عرب میں سینما کھلنے کےمصر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودیی عرب میں 35 سال کے وقفے کے بعد سینیما گھروں کی بحالی مصر اور سعودی عرب کے درمیان فلم سازی کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب میں فلم بینی اور سینما کی سرگرمیوں کی بحالی کے نتیجے میں فلم انڈسٹری کے پھلنے پھولنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ عرب دنیا میں فلم سازی کے میدان میں مصر کا اپنا ایک نام ہے اور مصر سعودی عرب کے ساتھ مل کر فلم سازی کے میدان میں الریاض کے ساتھ اہم تعاون کرسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے فن کار آنے والے عرصے میں فلمی دنیا میں مشترکہ منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں۔

مصر کے فن کار اور شوبز کے ناقد طارق الشناوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں سینما کھلنے کے مصر کی فلم انڈسٹری پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والے ڈراموں کی تیاری میں مصر کی فلم انڈسٹری اہم کردار ادا کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں الشناوی نے کہا کہ سعودی عرب میں فلمی سرگرمیوں کی بحالی سے کئی ملکوں کو فائدہ پہنچے گا، فائدہ اٹھانے والوں میں سر فہرست مصر ہو گا۔ مصر کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ فلمی دنیا میں سعودی عرب اور مصر کے مزاج میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں مصری شہریوں کی بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب اور مصر کے درمیان شوبز کے شعبے میں ایک عرصے سے تعاون موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک شوبز میں باہمی تعاون کے نئے معاہدے بھی کریں گے۔

مصری فلم پروڈیوسر داؤد عبدالسید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں سینما کی بحالی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدام سے مصر کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ سعودی عرب مصری فلموں کی ایک نئی مارکیٹ بن کر ابھرے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مصر میں تیار ہونے والی ہر فلم کو سعودی عرب میں نمائش کے لیے پیش کرنا آسان بھی نہیں۔ بہت سے سوال ایسے ہیں جن کے جواب دینا ہوں گی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سعودی عرب کے سینماؤں میں کس طرح کی فلمیں دکھائی جاسکتی ہیں۔