شام میں لاپتا امریکی صحافی سے متعلق اطلاع پر 10 لاکھ ڈالرز انعام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا نے شام میں 2012ء سے لاپتا امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے بارے میں اطلاع دینے والے کسی بھی شخص کے لیے دس لاکھ ڈالرز کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی) نے اسی ہفتے اس انعام کا اعلان کیا ہے۔ادارے کی خاتون ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس اعلان کے وقت کا کسی اور خاص واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

36 سالہ ٹائس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام میں لاپتا واحد امریکی صحافی ہیں ۔انھیں اگست 2012ء میں شامی دارالحکومت دمشق کے نواح سے اغوا کر لیا گیا تھا ۔وہ تب جنگ زدہ ملک میں میکلچی نیوز ، واشنگٹن پوسٹ ، سی بی ایس نیوز ، اے ایف پی اور دوسری خبررساں ایجنسیوں کے لیے فری لانس صحافی کے طور پر کام کررہے تھے۔

ٹائس کا خاندان قبل ازیں ان کے اتا پتا کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے متعدد اپیلیں کرچکا ہے ۔اس کو یقین ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں شام ہی میں کہیں انھیں رکھا گیا ہے ۔

ایف بی آئی نے اپنی ویب گاہ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ٹائس کے ٹھکانے تک براہ راست اور محفوظ طریقے سے پہنچنے،اس کی بازیابی اور واپسی کے لیے معلومات فراہم کرنے والے کو انعامی رقم دی جائے گی‘‘۔

ایجنسی نے آسٹن سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک ای میل ایڈریس بھی بنایا ہے: [email protected] اور کہا ہے کہ جس کسی کے پاس آسٹن سے متعلق معلومات ہوں تو وہ اس ای میل پتے پر بھیج سکتا ہے یا امریکا کے کسی بھی قونصل خانے سے رابطہ کرسکتا ہے۔

دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم صحافیان (رپورٹرز) ماورائے سرحد نے امریکا کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔یہ تنظیم ٹائس کے خاندان کے ساتھ ان کی بازیابی کے لیے کام کرتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس اور کیپٹول کو ملانے والی شاہراہ پر واقع خبری میڈیا کے عجائب گھر ’ نیوزیم‘‘ کی عمارت پر 2016ء میں ’فری آسٹن ٹائس ‘ کے نام سے ایک بینر آویزاں کیا گیا تھا۔یہ بینر ابھی تک وہاں لہرا رہا ہے۔

ٹائس کی والدہ بیٹے کی تصویر  اٹھائے ہوئے۔
ٹائس کی والدہ بیٹے کی تصویر اٹھائے ہوئے۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں