.

’’کوئی منافقت نہیں ، قطری وزیراعظم نے عبداللہ النعیمی کی شادی میں شرکت کی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر بن خلیفہ آل ثانی نے دہشت گردی کے مالی معاون عبدالرحمان النعیمی کے بیٹے کی شادی میں شرکت کی تھی۔اس نے کہا ہے کہ اس معاملے میں کسی منافقت سے کام نہیں لیا جارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ وزیراعظم کو دُلھا نے ذاتی طور پر شادی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔یہ دُلھا میاں قطری ریاست کے سرکاری ملازم ہیں ۔اس معاملے میں کوئی منافقت نہیں کی جار ہی ہے ۔وزیراعظم اپنے ملازمین کے اچھے کام کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے‘‘۔

قطری حکومت کے دفتر ابلاغیات نے بیان میں ایک نیا دعویٰ کیا ہے کہ ’’ پراسیکیوٹرز عبدالرحمان النعیمی کے خلاف ایک نیا کیس تیار کررہے ہیں او ر وہ اس وقت اپنے خلاف عدم ثبوت کی بنا پر آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں ‘‘ ۔ قطری حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ امیر قطر کو کسی فرد کو یک طرفہ طور پر جیل میں ڈالنے کا اختیار نہیں ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ قطری حکومت کے اس بیان سے اس کی دہشت گردی کے مالی معاونین سے نمٹنے کے بارے میں ساکھ کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ان ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر نے دہشت گردی کے مالی معاونین سے نمٹنے کے حوالے سے دُہرا کردار اختیار کررکھا ہے۔امریکا اور مغرب کو اس کو دہشت گردی کی معاونت سے دستبردار کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

واضح رہے کہ العربیہ نے حال ہی میں قطر کے اعلیٰ عہدے داروں اور دہشت گردی کے مالی معاونین کے درمیان کھلے عام تعلقات کا انکشاف کیا ہے۔دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت میں ملوث ان افراد کے نام خود قطر کی گذشتہ ماہ اپنی جاری کردہ مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔

گذشتہ ہفتے العربیہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دہشت گردی کے لیے رقوم مہیا کرنے والے عبدالرحمان النعیمی قطر میں کسی خوف وخطر کے بغیر رہ رہے ہیں حالانکہ گذشتہ ماہ ہی انھیں قطر نے خود دہشت گرد قرار دیا تھا ۔انھوں نے 11 اپریل کو اپنے بیٹے عبداللہ النعیمی کی دھوم دھام سے شادی کی تھی۔

شادی کی تقریب میں قطری وزیراعظم عبداللہ آل ثانی اور دوسرے اعلیٰ حکومتی عہدے داروں نے بھی شرکت کی تھی۔النعیمی کا نام دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے افراد کی بین الاقوامی سطح پر جاری کردہ فہرستوں میں شامل ہے۔ان کی قطری وزیراعظم اور دوسرے عہدے داروں کے ساتھ شادی کے موقع پر ایک تصویر منظرعام پر آئی تھی ۔اس تصویر میں 11 اپریل کو قطری وزیراعظم عبداللہ آل ثانی دُلھا عبداللہ النعیمی کو مبارک باد دینے کے لیے بوسہ دے رہے ہیں۔تصویر میں مطلوب دہشت گرد النعیمی ان کے پیچھے نظر آر ہے ہیں۔

النعیمی کو امریکی حکومت نے دسمبر 2013ء میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور اقوام متحدہ نے ستمبر 2014ء میں انھیں خطے میں دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل مہیا کرنے کے الزام میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 64 سالہ النعیمی نے عراق میں القاعدہ کو کروڑوں ڈالرز دیے تھے۔امریکی محکمہ خزانہ نے تب کہا تھا کہ عبدالرحمان النعیمی نے شام میں اپنے نمائندوں کے ذریعے چھے لاکھ ڈالرز القاعدہ کو منتقل کیے تھے۔وہ مزید پچاس ہزار ڈالرز بھی منتقل کرنا چاہتے تھے۔

امریکی انٹیلی جنس نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ النعیمی نے 2001ء میں عراق میں القاعدہ کو ہر ماہ ایک سال کے لیے بیس ، بیس لاکھ ڈالرز منتقل کیے تھے۔امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے صومالیہ میں سخت گیر جنگجو گروپ الشباب کو بھی رقوم مہیا کی تھیں اور اس گروپ کو ڈھائی لاکھ ڈالرز منتقل کیے تھے۔

عبدالرحمان النعیمی قطری تنظیم عید چیرٹی کے بانی اور بورڈ کے رکن ہیں ۔اس کو دہشت گرد ی مخالف چار ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال دہشت گرد گروپوں کا مالی معاون قرار دے دیا تھا اور قطر سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔