بھارت : شدّت پسند ہندو کا مسلمان ڈرائیور کے ساتھ ٹیکسی میں سفر کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت میں دائیں بازو کی ایک تنظیم سے تعلق رکھنے والے ہندو شہری نے کیب کی بکنگ کے بعد صرف اس لیے سفر کرنے سے انکار کر دیا کہ گاڑی کا ڈرائیور "مسلمان" تھا۔

بھارتی اخبار Times of India"" کے مطابق ابھیشک مِشرا نامی یہ شہری ایک عالمی تنظیم Vishwa Hindu Parishad کے لیے بطور سوشل میڈیا ایڈوائزر کام کرتا ہے۔ ابھیشک نے OLA کمپنی کے ذریعے اپنی رائڈ بک کروائی تھی۔ تاہم ڈرائیور کے مسلمان ہونے کا جان کر اس نے سفر کرنے سے انکار کر دیا۔

ابھیشک نے ٹوئیٹر پر اپنی پوسٹ میں لکھا "میں نے اولا کمپنی کی کیب کی بکنگ اس لیے منسوخ کی کیوں کہ اس کا ڈرائیور مسلمان تھا.. اور میں اس بات کی خواہش نہیں رکھتا کہ اپنا پیسہ جہادیوں کو تھما دوں"۔

اس ٹوئیٹ نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا جہاں لوگوں نے ٹوئیٹر اور "اولا" کمپنی کی ویب سائٹ سے ابھیشک مشرا کا کھاتہ ختم کر دینے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب "اولا" کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک سیکولر پلیٹ فارم ہے اور مذہب، نظریات یا کسی بھی حوالے سے نسل پرستی پر مبنی رجحانات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ کمپنی نے اپنے تمام ڈرائیوروں اور صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی طور پر احترام کے ساتھ پیش آئیں۔

یاد رہے کہ ابھیشک مشرا کے سوشل میڈیا پر 14 ہزار فالوورز ہیں جن میں بھارتی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں