جوہری معاہدے کے حوالے سے اس وقت بہتر آپشن موجود نہیں: امانوئل ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے صدر امانوئل ماکروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا 2015ء میں ایران کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے سے دست بردار ہوا تو اُن کے پاس کوئی "متبادل منصوبہ" نہیں ہے۔

ماکروں نے یہ بات اتوار کے روز فوکس نیوز پر نشر ہونے والے انٹرویو میں کہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جولائی 2015 میں تہران اور چھ بڑے ممالک (امریکا، چین، فرانس، برطانیہ، روس اور جرمنی) کے درمیان دستخط ہونے والے جوہری معاہدے کو ایران کے حوالے سے انتہائی نرمی کا معاملہ شمار کرتے ہیں۔ وہ یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر 12 مئی تک یورپی ممالک نے دستخط شدہ شرائط کو سخت نہ کیا تو وہ معاہدے سے نل جائیں گے اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے طے پایا جانے والا معاہدہ کوئی مثالی سمجھوتہ نہیں ہے مگر اس وقت کوئی "بہتر آپشن" موجود نہیں۔

ماکروں نے مزید کہا کہ "میں بیلسٹک میزائلوں پر روک چاہتا ہوں۔ میں (ايران کے) علاقائی اثر و رسوخ کو قابو کرنا چاہتا ہوں"۔ فرانس کے صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "جب تک بہتر جوہری اختیار سامنے نہ ہو اُس وقت تک آپ معاہدے سے نہ نکلیے"۔

امانوئل ماکروں کا کہنا تھا کہ "جنگ کے بعد ایک نیا شام بنانے کی ذمّے داری ہم پر ہو گی۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کا ایک بہت اہم کردار ہے"۔

فرانسیسی صدر نے واضح کیا کہ "جس روز ہم داعش تنظیم کے خلاف اس جنگ سے فارغ ہوئے۔ اگر ہم مکمل اور حتمی طور پر کوچ کر گئے خواہ سیاسی نقطہ نظر سے ،،، تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم ایرانی نظام اور بشار الاسد کے واسطے میدان کھلا چھوڑ جائیں گے۔ اس طرح یہ لوگ نئی جنگ کی تیاری کر لیں گے اور نئے دہشت گرد پیدا کر لیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں