ملائشیا : فلسطینی پروفیسر کے دونوں مشتبہ قاتلوں کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ملائشیا میں پولیس نے فلسطینی پروفیسر فادی البطش کے دونوں مشتبہ قاتلوں کی تصاویر جاری کردی ہیں ۔اس کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بظاہر شکل وشباہت سے یورپی یا مشرق اوسط سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بعد اس شُبے کو تقویت ملی ہے کہ قتل کی اس واردات کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ کارفرما ہے۔

غزہ کی حکمراں حماس نے بھی اسرائیل پر کوالالمپور میں پروفیسر فادی البطش کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔وہ حماس کے ایک رکن تھے۔اسرائیل نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کی اور نہ تردید کی ہے۔

ملائشیا کی قومی پولیس کے سربراہ محمد فوزی ہارون نے سوموار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ دونوں ملزموں کی کمپوزٹ تصاویر عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہیں۔دونوں مشتبہ افراد کے رنگ صاف تھے اور انھوں نے سیاہ رنگ کی جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔وہ یورپی یا مشرق اوسط سے لگ رہے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی خاکا نما تصاویرملک سے باہر جانے والے تمام راستوں پر آویزاں کردی گئی ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا دونوں ملزم ملک میں ہی ہیں یا فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔

ملائشین پولیس نے بتایا ہے کہ موٹر بائیک پر سوار دونوں حملہ آوروں نےاتوار کو علی الصباح 34 سالہ پروفیسر بطش کو 14 گو لیاں ماری تھیں۔اس وقت وہ کوالالمپور کے ایک نواحی علاقے میں نماز فجر کی ادائی کے لیے جارہے تھے۔ کلوز سرکٹ ٹی وی کی فوٹیج کے مطابق دونوں مشتبہ قاتلوں نے جائے واردات پر پروفیسر بطش کا 20 منٹ تک انتظار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فادی البطش ملائشیا میں گذشتہ سات سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہے تھے اور وہ ملک کے مستقل مقیم تھے۔وہ الیکٹریکل انجنیئر تھے اور ایک مقامی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے لیکن پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ راکٹ بنانے کے ماہر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ البطش فلسطینی مسئلے پر مقامی اور غیر ملکی سطح پر کانفرنسوں اور سیمی ناروں میں شرکت کے لیے جاتے رہتے تھے اور قتل کے دن بھی وہ ترکی میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔

ملائشیا میں  فلسطینی پروفیسر کے دونوں قاتلوں کی تصاویر
ملائشیا میں فلسطینی پروفیسر کے دونوں قاتلوں کی تصاویر
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں