یمن : حوثیوں کا سیاسی قائد صالح الصماد عرب اتحاد کے فضائی حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کی نام نہاد سپریم سیاسی کونسل کا سربراہ صالح الصماد عرب اتحاد ی افواج کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

حوثی ملیشیا نے سوموار کو ایک بیان میں اپنے اس لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ صالح الصماد کا نام سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کو مطلوب یمنی حوثیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔

العربیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ صالح الصماد صوبے الحدیدہ کے جنوب میں واقع علاقے البریہی میں عرب اتحاد کے ایک مکان پر فضائی حملے میں مارے گئے ہیں ۔ان ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے گذشتہ کئی ہفتوں سے گھر پر نظر بند تھے۔

مقتول کو حوثی تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے بعد باغیوں کا دوسرا بڑا لیڈر شمار کیا جاتا تھا۔حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل نے ان ہی کی قیادت میں صنعاءمیں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی منتخب حکومت کے خلاف ستمبر 2014ء میں بغاوت برپا کرنے کے بعد سرکاری اداروں پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنی کٹھ پتلی حکومت بنالی تھی۔

ایران کی حمایت سے قائم اس حکومت میں یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے وزراء بھی شامل تھے لیکن علی صالح کے قتل کے بعد حوثیوں نے ان وزراء کو ایک ایک کرکے چلتا کیا ہے اور اب وہ صنعاء میں خود ہی امور مملکت چلا رہے ہیں۔تاہم عرب اتحاد اور یمنی فورسز کی مختلف محاذوں پر حالیہ فتوحات کے بعد حوثیوں کا دارالحکومت کے علاوہ یمن کے بہت تھوڑے علاقوں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں