ایران سے جوہری سمجھوتا پاگل پن تھا، یہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا: صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کیا تو اس کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مسائل پیدا ہوجائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوایل ماکروں آج وائٹ ہاؤس میں ملاقات میں ایران سے جوہری سمجھوتے اور اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات چیت کررہے ہیں۔

ماکروں یہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ ایران سے جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھیں جبکہ انھوں نے ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوف ناک ڈیل تھی۔

امریکی صدر نے اگرچہ اپنے فرانسیسی ہم منصب کا وائٹ ہاؤس میں بڑے والہانہ انداز میں خیر مقدم کیا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان ایران سے جوہری سمجھوتے کے علاوہ پیرس میں طے شدہ کثیر قومی موسمیاتی سمجھوتے کے بارے میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ماکروں کے ساتھ نیوز کانفرنس کے دوران میں ایک رپورٹر کے سوال کا جواب دینے سے بھی انکار کردیا ۔اس نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا کہ وہ اپنے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کو معافی دینے پر غور کررہے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے اس سوال کو احمقانہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنوری 2017ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی تنسیخ کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔وہ پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر یورپی ممالک ا س کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر وہ اس میں موجود اسقام دور کریں اور اس مقصد کے لیے ایران کے ساتھ ایک ضمنی سمجھوتا طے کریں جس کے تحت اس کے لیے جوہری بم کی تیاری کا حساس کام بالکل ناممکن ہوجائے اور موجودہ معاہدے میں ان تصریحات میں ترمیم کی جائے یا انھیں حذف کیا جائے جن کے تحت وہ بتدریج ایڈوانس جوہری کام بحال کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ ایران کے خلاف بیلسٹک میزائل پروگرام کی وجہ سے بھی مزید سخت پابندیاں عاید کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ایران جوہری معاہدے پر ازسر نو کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں