بھارت : وسطی ریاست مہاراشٹر میں پولیس کی کارروائی میں 34 ماؤ نواز باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی وسطی ریاست مہاراشٹر میں پولیس کی ایک کارروائی میں چونتیس ماؤ نواز باغی ہلاک ہوگئے ہیں ۔

پولیس کمانڈوز نے مہاراشٹر کے ضلع گڑ چرولی میں اتوار کو نیکسلائٹ باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور ان کے اس ضلع کے پہاڑی علاقے میں واقع ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔سوموار کی شب ایک جھڑپ میں چار عورتوں سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ مہاراشٹر کا یہ ضلع ریاست چھتیس گڑھ کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہ صوبائی دارالحکومت ممبئی سے ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے کی لڑائی میں سولہ باغی جنگجو مارے گئے تھے اور ان میں عورتیں بھی شامل تھیں ۔ان کے علاوہ دریائے اندرا وتی کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے متعدد باغیوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیاتھا۔ان کی لاشیں منگل کے روز بھی دریا سے نکالی جارہی تھیں۔

مہاراشٹر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ستیش مٹھور نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ چونتیس لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور مرنے والے باغیوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دریا سے ابھی تک لاشیں نکالی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ بے زمین کاشت کار اور قبائلی نیکسلائٹس تحریک میں شامل ہیں ۔یہ تحریک 1960ء کے عشرے میں شروع ہوئی تھی۔اس کو ریاست مغربی بنگال میں واقع ایک گاؤں کے نام سے موسوم کیا گیا تھا ۔اسی گاؤں میں اس تحریک کی بنیاد پڑی تھی۔ابتدا میں یہ لوگ تیر اور بھالے لے کر بھارتی سکیورٹی فورسز کے مد مقابل آئے تھے۔آج ان کے پاس کلاشوکاف رائفلیں اور خود کار ہتھیار ہیں اور یہ انھوں نے پولیس کی چوکیوں پر حملوں کے بعد حاصل کیے ہیں ۔

نیکسلائٹس باغیوں نے بھارت کی مختلف ریاستوں میں گذشتہ چند عشروں سے مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے ۔اب انھیں اندرون اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے کمیونسٹ گروپوں سے مالی مدد مل رہی ہے اور ان کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔

بھارت کی وزارت داخلہ کے مطابق مارچ کے اختتام تک بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے باغی گروپوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں سنہ 2009ء کے بعد ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں