حوثی لیڈر صالح الصماد کون اور باغیوں کے لیے کتنا اہم تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں نے کی نام نہاد سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد کی عرب اتحادی افواج کے ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

حوثی ملیشیا نے سوموار کو ایک بیان میں اپنے اس لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ صالح الصماد کا نام سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کو مطلوب یمنی حوثیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔

’العربیہ’ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ صالح الصماد صوبے الحدیدہ کے جنوب میں واقع علاقے البریہی میں عرب اتحاد کے ایک مکان پر فضائی حملے میں مارے گئے ہیں ۔ان ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے گذشتہ کئی ہفتوں سے گھر پر نظر بند تھے۔

صالح الصماد کو حوثی تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے بعد باغیوں کا دوسرا بڑا لیڈر شمار کیا جاتا تھا۔ حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل نے ان ہی کی قیادت میں صنعاءمیں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی منتخب حکومت کے خلاف ستمبر 2014ء میں بغاوت برپا کرنے کے بعد سرکاری اداروں پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنی کٹھ پتلی حکومت بنالی تھی۔

ایران کی حمایت سے قائم اس حکومت میں یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے وزراء بھی شامل تھے لیکن علی صالح کے قتل کے بعد حوثیوں نے ان وزراء کو ایک ایک کرکے چلتا کیا ہے اور اب وہ صنعاء میں خود ہی امور مملکت چلا رہے ہیں۔ تاہم عرب اتحاد اور یمنی فورسز کی مختلف محاذوں پر حالیہ فتوحات کے بعد حوثیوں کا دارالحکومت کے علاوہ یمن کے بہت تھوڑے علاقوں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

مارچ 2015ء میں یمن کے حوثی باغیوں کے ایک وفد نے ایران کا دورہ کیا۔ اس وفد کی قیادت صالح الصماد نے کی تھی۔ دورے کے دوران ایران اور حوثیوں کے درمیان متعدد سمجھوتوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں اہم ترین معاہدہ دوطرفہ فضائی سروس کی بحالی تھی۔ ایران نے دارالحکومت صنعاء کے لیے روزانہ دو پروازیں چلانے کی منظوری دی۔

سنہ 2015ء میں حوثیوں نے خلیجی ریاست سلطنت اومان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے عالمی سفارت کاروں کے اجلاس میں صالح الصماد کی قیادت میں اپنا نمائندہ وفد اومان بھیجا تھا۔

یمن میں مختلف مقامات پرسرکاری فوج کے آپریشن اور عرب اتحادی فوج کی بمباری کے نتیجے میں ایران نواز حوثی باغیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

صالح الصماد کا شمار حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے بعد دوسرے اہم ترین لیڈر میں ہوتا تھا۔

حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل نے ان ہی کی قیادت میں صنعاء میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی منتخب حکومت کے خلاف ستمبر 2014ء میں بغاوت برپا کرنے کے بعد سرکاری اداروں پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنی کٹھ پتلی حکومت بنالی تھی۔

ایران کی حمایت سے قائم اس حکومت میں یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے وزراء بھی شامل تھے لیکن علی صالح کے قتل کے بعد حوثیوں نے ان وزراء کو ایک ایک کرکے چلتا کیا ہے اور اب وہ صنعاء میں خود ہی امور مملکت چلا رہے ہیں۔تاہم عرب اتحاد اور یمنی فورسز کی مختلف محاذوں پر حالیہ فتوحات کے بعد حوثیوں کا دارالحکومت کے علاوہ یمن کے بہت تھوڑے علاقوں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں