حوثی لیڈر کا داماد انقلابی کونسل کا نیا سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کی حوثی ملیشیا نے انقلابی کونسل کے سربراہ اور تنظیم کے دوسرے اہم ترین لیڈر صالح الصماد کی عرب اتحادی فوج کے حملے میں ہلاکت کے بعد مہدی المشاط کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مہدی المشاط رشتے میں حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کا داماد ہے۔

خیال رہے کہ صالح الصماد کو پانچ روز قبل جمعرات کو ہلاک کیا گیا مگر حوثی ملیشیا نے اس خبر کو دبائے رکھا۔ گذشتہ روز الصماد کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کے بعد انقلابی کونسل کے نئے سربراہ کا بھی اعلان کیا گیا۔

خیال رہے کہ حوثی ملیشیا کی بیشتر قیادت غیر معروف لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بیشتر سنہ 2014ء کی بغاوت کے بعد منظر عام پر آئے۔ معدودے چند ایسے نام ہیں جو سنہ 2004ء سے 2009ء کےدوران ہونے والی لڑائیوں میں پیش پیش رہے تھے۔ مہدی المشاط بھی ایک نیا نام ہے۔ وہ ایک نوجوان ہیں اوران کا فیلڈ یا سیاست میں کوئی زیادہ تجربہ نہیں تاہم انہیں صرف یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ وہ ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے داماد ہیں۔

مھدی محمد حسین المشاط کا تعلق بھی دیگر حوثی لیڈروں کی طرح صعدہ گونری سے ہے۔ وہ عبدالملک الحوثی کے پرنسپل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 2013ء میں چھ ماہ تک محاصرہ جاری رکھنے کے بعد یمن میں دماج کے مقام پر سلفی دارالحدیث پر دھاوا بولا۔ ہلہ بولنے والوں کی قیادت المشاط نے کی تھی۔

دارالحکومت صنعاء پر حوثی ملیشیا کے قبضے کے دوران دیگر لیڈروں کی طرح مہدی المشاط بھی پیش پیش رہا ہے۔

مئی 2016ء کو اسے حوثیوں کی انقلابی کونسل کا رکن مقررکیا گیا۔ یہ کونسل سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے ایک قریبی ساتھی یوسف الفیشی کی تجویز پر قائم کی گئی تھی۔ اس وقت علی صالح اور حوثیوں میں اتحاد قائم تھا.

مقبول خبریں اہم خبریں