دنیا بھر میں دو کروڑ شیرخوار بنیادی نوعیت کی ویکسین سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے شیر خوار بچوں کی بنیادی ضرورت کی ویکسین سے متعلق جاری کردہ ایک رپورٹ میں لرزہ خیز اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں قریبا دو کروڑ شیر خوار بنیادی ویکسین سے محروم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ 95 لاکھ شیر خوار ایسے ہیں جنہیں بنیاد نوعیت کی ویکسین دستیاب نہیں۔ ان میں سے 86 فی صد بچوں کو گذشتہ سال کے دوران بنیادی ویکسین نہیں پلائی جا سکی۔

یہ رپورٹ عالمی ہفتہ امیونائزیشن کی مناسبت سے جاری کی گئی ہے۔ یہ مین 24 سے 30 اپریل تک پوری دنیا میں منائی جا رہی ہے جس میں بچوں کی بنیادی صحت اور ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی مہیا کی جائےگی۔

اس مہم کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص پسماندہ علاقوں میں بچوں کی طبی ضروریات اور ان کے حصول کے طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ام یونائیزیشن صحت کے حوالے سے ایک فعال اور زیادہ کامیاب طبی ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ڈالر جسے بچوں کی ویکسین پر خرچ کیا جاتا ہے اس کے بدے میں اقتصادی اور سماجی شعبوں کو 44 ڈالر کا فایدہ پہنچتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ڈاکٹر جواد المحجور کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت کا شکار خطے کے کئی ممالک میں شیر خواروں کو بنیادی ویکسین کی فراہمی ایک مشکل مرحلہ ہے مگر ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈائریا،تشنج اور کالی کھانسی کی تیسرے مرحلے کی ویکسین کا 80 فی صد کام مکمل ہوچکا ہے تاہم ابھی بہت سے دوسرےامراض کے علاج کے لیے ویکیسینیشن پر کام کرنا باقی ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق سنہ 2016ء میں 3 کروڑ 70 لاکھ بچے ڈائریا، تشنج اور کالی کھانسی کے تیسرے مرحلے کی ویکسین سے محروم رہے۔ان میں چھ ممالک میں صحت کے حوالے سے ہنگامی حالات نافذ تھے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2000ء سے 2016ء تک خسرہ کی ویکسین پلائے جانے سے اس بیماری سے ہونے والی اموات میں 94 فی صد کمی آئی ہے جب کہ سنہ 1988ء کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک میں بچوں میں پولیو کے مرض میں 99 فی صد کمی آچکی ہے۔ البتہ افغانستان، نائیجیریا اور پاکستان میں بعض علاقوں میں پولیو ویکسین کی رسائی نہ ہونے کے باعث پولیو کی شکایات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں