فلپائن کی گھریلو ملازماؤں کو نکالنے کے لیے کویت کی خود مختاری کی خلاف ورزی پر معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلپائن نے کویت سے گھریلو ملازماؤں کو نکالنے کے نام پر اپنے سفارت خانے کے عملہ کی کارروائیوں پر خلیجی ریاست سے باضابطہ طور پر معذرت کی ہے۔

کویت نے گھروں میں کام کرنے والی فلپائنی ملازماؤں کو ’’ریسکیو‘‘ کے نام پر از خود بلا اطلاع نکالنے پر احتجاج کیا تھا اور وزارت خارجہ نے کویت شہر میں فلپائنی سفیر کو طلب کرکے ان سے باقاعدہ احتجاج کیا تھا اور گذشتہ ہفتے کے روز ایسے کارروائیوں میں ملوث فلپائنی سفارتی عملہ کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔

فلپائن کے وزیر برائے خارجہ امور ایلن پیٹر کیٹانو نے کہا ہے کہ کویت نے فلپائن کی وضاحت قبول کر لی ہے۔منیلا میں متعیّن کویتی سفیر نے سوموار کو جنوبی شہر ڈیواؤ میں صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ سے ملاقات کی تھی اور آج منگل کو کیٹانو سے بات چیت کی ہے۔

اس کے بعد وزیر خارجہ کیٹانو نے ایک ہنگامی نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ ہم اپنے کویتی ہم منصب کو ایک مراسلہ بھیج رہے ہیں اور ہم کویت میں پیش آنے والے ایسے بعض واقعات پر معذرت خواہ ہیں ، جن کو کویت اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی خیال کرتا ہے۔کویتی حکام سے ایسے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے اتفاق رائے ہوگیا ہے‘‘۔

دونوں ممالک فلپائنی تارکین وطن کے تحفظ کے لیے ایک معاہدے پر بھی کام کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ فلپائنی صدر روڈریگو نے جنوری میں اپنے شہریوں کو کویت میں بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی اور انھوں نے یہ فیصلہ کویت میں فلپائنی تارکین وطن سے مبینہ ناروا سلوک کی اطلاعات منظرعام پر آنے کے بعد کیا تھا۔

فلپائنی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارت خانے نے ان ورکروں کی مدد کی تھی جن کے لیے صورت حال زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی تھی اور انھیں ان کے آجروں کے گھروں سے نکالنا ضروری ہوگیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم کویت کی خود مختاری اور قوانین کا احترام کرتے ہیں لیکن فلپائنی ورکروں کی فلاح وبہبود بھی اہمیت کی حامل ہے‘‘۔انھوں نے مزید بتایا کہ کویت میں اس وقت دو لاکھ 65 ہزار سے زیادہ فلپائنی تارکین وطن کام کررہے ہیں۔ان میں 65 فی صد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کویت میں گھروں سے نکالے گئے 600 سے زیادہ فلپائنی ورکر اس وقت سفارت خانے میں موجود ہیں اور وطن واپسی کے منتظر ہیں ۔ان کے علاوہ مزید 120 نے مشکل حالاتِ کار ، تن خواہوں اور ناروا سلوک کی بنا پر سفارت خانے سے مدد کی درخواست کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں