معروف ڈچ وکیل کا قطر سے دہشت گردی کے متاثرین کو ہرجانہ دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نیدر لینڈز سے تعلق رکھنے والی ایک معروف وکیل نے قطر سے القاعدہ سے وابستہ انتہا پسند گروپ النصرہ محاذ کی دہشت گردی کا شکار افراد کو ہرجانہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے بہ قول اس گروپ کی قطر نے مالی معاونت کی تھی۔

ڈچ وکیل لیزبتھ زیگ ویلڈ نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد کو ایک خط لکھا ہے اور اس میں انھوں نے قطر پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ النصرہ محاذ کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا تھا۔اس لیے وہ اس جنگجو گروپ کی کارروائیوں کے متاثرین کو معاوضہ دے۔

انھوں نے خط میں لکھا ہے کہ ان متاثرین میں سے ایک شخص کو دسمبر 2012ء میں دمشق کے نواح میں واقع ایک علاقے میں النصرہ محاذ نے یرغمال بنا لیا تھا۔اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔اس کو النصرہ کے جنگجو تشدد کا نشانہ بناتے رہے تھے اور اس کو دو اور یرغمالیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا منظر دیکھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

النصرہ کے جنگجوؤں نے اس شخص کو بھی موت کی نیند سلانے کا ڈھونگ رچایا تھا۔جنگجوؤں نے اس کی رہائی کے لیے بیس لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم یہ شخص شام سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس نے تب سے نیدر لینڈز میں پناہ لے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی عہدے دار قطر پر النصرہ محاذ ایسے دوسرے جنگجو گروپوں کی مالی معاونت کا الزام عاید کرچکے ہیں۔قطر کئی سال تک افغان طالبان کے نمائندوں کی دوحہ میں میزبانی کرتا رہا ہے۔اس نے مصر کی قدیم مذہبی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی بھی حمایت کی تھی اور اس وقت بھی اس کی قیادت کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے جبکہ مصر اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

لیزبتھ زیگ ویلڈ اپنے خط میں مزید لکھتی ہیں کہ ’’ النصرہ محاذ کا قطر کی جانب سے مہیا کردہ مالی امداد کی بدولت ہی احیاء ہوا تھا اور وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہی تھی ۔قطر نے مختلف طریقوں سے اس دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت کی تھی اور اس کو سہولتیں مہیا کی تھیں‘‘۔

انھوں نے خط میں دھمکی دی ہے کہ اگر قطر ایک ہرجانہ فنڈ کے قیام میں ناکام رہتا ہے تو وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کردیں گی۔اس کے علاوہ قطر میں مقیم ان افراد اور تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث ہیں ۔ انھوں نے قطر کو اس خط کا جواب دینے کے لیے چھے ہفتے کی مہلت دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں