ناراض آسٹریلوی بچّہ تنہا سفر کر کے 4 روز تک جزیرہ بالی میں مقیم رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلیا میں پولیس نے منگل کے روز اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس کے مطابق ایک 12 سالہ بچّے نے انڈونیشیا کے بالی جزیرے کا تنہا سفر کیا اور اپنے والدین کے بینک کارڈز استعمال کرتے ہوئے وہاں کے ایک ہوٹل میں چار روز تک قیام کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق مذکورہ آسٹریلوی بچّے کا اپنی والدہ سے جھگڑا ہو گیا تھا جس کے بعد وہ سڈنی میں اپنے والدین کے گھر سے بھاگ گیا۔ پہلے وہ آسٹریلیا کے شہر پرتھ گیا اور پھر وہاں سے "جیٹ اسٹار" فضائی کمپنی کی ایک سستے سفر والی پرواز کے ذریعے جزیرہ بالی پہنچ گیا۔

بچّے کا خاندان ماضی میں تعطیلات گزارنے جزیرہ بالی کا سفر کر چکا جس کے بعد اس بچّے نے کئی مرتبہ وہاں کے تنہا سفر کے لیے سیٹ بک کرانے کی کوشش کی تاہم فضائی کمپنیوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

اس بچّے نے اپنے سفر کے دوران والدین کے اکاؤنٹ سے 8 ہزار آسٹریلوی ڈالر (5 ہزار یورو) خرچ کر ڈالے۔ بچّے کے ایک دوست نے سوشل میڈیا پر وڈیو کلپ دیکھ کر اس کی والدہ کو مطلع کر دیا کہ وہ بالی پہنچ چکا ہے۔ اس کے بعد بچّے کے والدین اسے لینے کے لیے انڈونیشیا روانہ ہو گئے۔

آسٹریلیا کے قانون کے مطابق 5 برس سے کم عمر بچّے تنہا سفر نہیں کر سکتے۔ تاہم 5 برس سے 11 برس کے درمیان کی عمر کے بچّوں کے تنہا سفر کے واسطے خصوصی ٹکٹس ہوتے ہیں۔ البتہ 12 سے 15 برس کے درمیان کے بچّے تنہا سفر کر سکتے ہیں تاہم شرط یہ ہے کہ انہیں سرپرست کی اجازت حاصل ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں