پاسداران انقلاب ایران کے اندر تک محدود نہیں: ایرانی عسکری لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیر لیڈر نے کہا ہے کہ پاسداران انقلان انقلاب ملک کی سرحدوں کے اندر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جہاں بھی ضرورت پڑی پاسداران انقلاب وہاں ضرور پہنچے گا۔

ایرانی عسکری لیڈر کی طرف سے یہ بیان صدر حسن روحانی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پڑوسی ملکوں سے برادرانہ تعلقات استوار کرنے اور دوسروں کے امور میں عدم مداخلت کا اشارہ دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی نیول فورس کے سربراہ ایڈمرل علی فدوی فارسی ویب سائٹ ’جماران‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاسداران انقلاب کی سرگرمیاں ایران کےاندر تک محدود نہیں رہیں گی۔ اس وقت بھی پاسداران انقلاب ہزاروں کلو میٹر ملک سے دور لڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کا اصل نام ’اسلامی انقلاب کی محافظ فورس‘ ہے۔ اس کے ساتھ کوئی اور سابقہ یا لاحقہ لگانے کی ضرورت نہیں۔

علی فدوی نے خطے کے دوسرے ممالک میں ایرانی فوج کی موجودگی کا جواز یہ پیش کیا کہ شام اور عراق جیسے ملکوں میں پاسداران انقلاب اسلامی انقلاب کی حفاظت کے لیے کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی مخصوص جغرافیے کے پابند نہیں اور امام خمینی نے ایسا کوئی فلسفہ پیش بھی نہیں کیا۔ انہوں نے پہلی بار انقلابی فوج کے قیام کی بنیاد رکھی جو جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔

جنرل علی فدوی نے دبے لفظوں میں صدر حسن روحانی کے پاسداران انقلاب سے متعلق بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کی پاسداران انقلاب ایک مستقل سیکیورٹی ادارہ ہے لیکن بعض لوگ اس کی خطے میں سرگرمیوں کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے دوست اندرون ملک ہی میں وہ باتیں کرتے ہیں جو امریکا جیسا ہمارا دشمن کرتا ہے۔اس سے ہمارے اور پاسداران انقلاب کے اہداف کو نقصان پہنچتا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے 18 اپریل کو ملک میں فوج کے قومی دن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ان کی پالیسی نہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدرحسن روحانی کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ پاسداران انقلاب ایران کی سرحدوں سے باہردوسرے ممالک میں مداخلت نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں