.

ایران کے ساتھ نئے معاہدے میں ٹرمپ اور ماکروں یہ سب چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے اُس نئے بین الاقوامی معاہدے کے اہم نکات کا انکشاف کیا ہے جو یورپ ایران کے ساتھ طے کرنا چاہتا ہے۔

ماکروں نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ نئے معاہدے میں چار محور شامل ہیں۔ پہلا محور یہ کہ سال 2025ء تک ایران کی ہر طرح کی جوہری سرگرمی کو ممنوع قرار دیا جائے۔ تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے بیچ 2015ء میں طے پائے گئے معاہدے میں یہ شق موجود ہے لہذا موجودہ معاہدے میں یہ برقرار رہے گی۔

دوسرا محور یہ کہ طویل مدت کے لیے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو غیر فعّال رکھنے کو یقینی بنانا۔ اس کے لیے نئے معاہدے کی ضرورت ہے کیوں کہ موجود معاہدہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ 2015ء کے سمجھوتے کے اختتام کے ساتھ ہی ایران اپنی سرگرمیوں کی طرف لوٹ آئے۔

تیسرا محور خطے میں ایرانی بیلسٹک میزائل کی سرگرمیاں روک دینے سے متعلق ہے۔ یہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر یکساں مطالبہ ہے۔

چوتھا محور ایک سیاسی حل کے واسطے شرائط کی فراہمی ہے تا کہ خطے میں ایران اور اس کے اثر و نفوذ اور یمن ، شام ، عراق اور لبنان میں اس کے تخریبی کردار کو لگام دی جا سکے۔

اس سے قبل منگل کے روز بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ممکنہ نئے معاہدے کے بارے میں بات چیت کی۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ نئے معاہدے میں اضافی شرائط داخل کرنا چاہتے ہیں تا کہ موجودہ جوہری معاہدے کی منسوخی کے بدلے اس میں ترمیم کی راہ نکالی جا سکے۔ واضح رہے کہ وہ تکنیکی ترامیم علاحدہ ہیں جن کا ٹرمپ پہلے سے مطالبہ کر رہے ہیں۔

اضافی شرائط میں ایران کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سائبر حملوں کو روکے جانے اور پاسداران انقلاب کی اقتصادی سرگرمیوں کو منجمد کرنے کو یقینی بنایا گیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کی توسیع کو ان مطالبات پر عمل درامد سے مشروط کیا ہے۔ ان کے علاوہ سابقہ مطالبات بھی ہیں جن میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری، تجدید اور تجربات روکنا، خطے کے علاقوں سے پاسداران انقلاب کی فورسز کو واپس بلانا اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران میں تمام جوہری مقامات اور تنصیبات کے دورے کا اجازت دینا شامل ہے۔

امریکی صدر نے یورپی حلیفوں کو 120 روز کی مہلت دی تھی تا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر مہلت کے اختتام تک معاہدے کی اصلاح نہ ہوئی تو امریکا اس سمجھوتے سے نکل جائے گا۔

نئے معاہدے کے متعلق باتیں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب ایران یہ کہہ چکا ہے کہ امریکا کے معاہدے سے نکلنے کی صورت میں ایران بھی اس سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ اس کے علاوہ تہران نے یورینیم کی فوری افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل جانے کی بھی دھمکی دی ہے۔

دھمکیوں کے تبادلے کے بیچ ایسا نظر آ رہا ہے کہ جوہری معاہدے کا انجام ہوا ہونے کی صورت میں سامنے آنے والا ہے۔ بالخصوص جب کہ ایران میں سخت گیر حلقے اس سے نکل جانے پر مُصر ہیں۔ ان حلقوں کے نزدیک ایران خود پر عائد پابندیوں کے مکمل خاتمے کے بغیر ہی رعائتیں اور دست برداریاں پیش کر بیٹھا ہے۔