.

شام بین الاقوامی سطح پر سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے: اقوام متحدہ کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونتیو گوٹیریس نے زور دے کر کہا ہے کہ اقوام متحدہ شام میں جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

برسلز میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 1.3 کروڑ سے زیادہ شامی شہری سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جب کہ 65 لاکھ شامی ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہو گئے۔

گوٹیریس نے خبردار کیا کہ شام میں پھیلی ملیشیاؤں کی بڑی تعداد کے سبب یہ ملک بین الاقوامی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ شام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ گوتیریس نے زور دیا کہ شام کو غیر منقسم اور یکجا رہنا چاہیے۔

دوسری جانب یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی ذمّے دار فیڈریکا موگرینی نے ایک بار پھر شام کے حل کے واسطے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سادہ لوح نہیں اور جانتے ہیں کہ شام میں امن بات چیت آسان نہیں ہو گی"۔

موگرینی کے مطابق کسی سیاسی حل کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر متحرک ہونا چاہیے تا کہ شامی شہریوں کو امن میسر آ سکے۔ شام دیگر ملکوں کے درمیان شطرنج کی بساط نہیں"