دوسری عالمی جنگ کے بعد حوثیوں نے یمن میں سب سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دوسری عالمی جنگ کے بعد یمن میں حوثی شیعہ باغیوں نے سب سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھادی ہیں اور اب سرکاری فورسز حوثیوں سے بازیاب کرائے گئے علاقوں میں ان بارودی سرنگوں کو تلف کرنے کا کام کرر ہی ہیں ۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے نہ صرف ان بارودی سرنگوں کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے جن پر بین الاقوامی سطح پر پابندی عاید ہے بلکہ انھوں نے ان کو کھلی جگہوں اور شہری آبادیوں کے نزدیک بھی بچھا دیا ہے۔

حوثی باغی گنجان آباد شہری علاقوں کےنزدیک بلا تمیز بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں۔ مزید برآں وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے سے قبل وہاں بارودی سرنگیں بچھا جاتے ہیں ۔ان کے دھماکوں میں اب تک تین ہزار سے زیادہ یمنی شہری مارے جاچکے ہیں ۔ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یمنی شہروں میں تعز حوثیوں کی نصب کردہ بارودی سرنگوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں کم سے کم سات سو افراد اس خاموش دشمن کا شکار ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں بارودی سرنگوں کے د ھماکوں میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ حوثیوں نے یمن کے مختلف علاقوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں ۔

یمن میں بارودی سرنگوں کو تلف کرنے کا کام گذشتہ دو سال سے جاری ہے اور سرکاری سکیورٹی فورسز نے اس عرصے میں حوثی باغیوں سے بازیاب کرائے گئے علاقوں میں تین لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں تلف کردی ہیں ۔

یمنی فوج کی انجنیئرنگ ٹیموں نے دارالحکومت صنعاء سے مشرق میں واقع صوبے مآرب میں چالیس ہزار بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا ہے۔باب المندب میں واقع جزیرے پریم میں انھوں نے سولہ ہزار بارودی سرنگوں کو تلف کیا ہے۔

یمنی فوج نے قبل ازیں ملک کے مغربی علاقوں سے ہر ہفتے اوسطاً تین سو بارودی سرنگیں نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔اس طرح یمن شمالی افریقا اور مشرقِ اوسط کے خطے میں واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں بارودی سرنگین نصب کی جاچکی ہیں ۔

یمنی فوج کی انجنیئرنگ ٹیموں نے حالیہ مہینوں میں صوبہ الجوف کے شمالی ضلع برط العنان میں سیکڑوں بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز ڈیوائسز تلف کی تھیں ۔ حوثی باغی اس صوبے سے پسپائی کے وقت ان بارودی سرنگوں کو جگہ جگہ بچھا گئے تھے اور ان کا مقصد ان کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنانا تھا ۔

اس کے علاوہ انھوں نے یمنی فوج کے ٹینکوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے گھریلو ساختہ بم اور مختلف حجم کی ڈیوائسز نصب کی تھیں لیکن فوج کی انجنیئرنگ ٹیموں نے الجوف میں ان تمام جگہوں کو بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد سے مکمل طور پر پاک کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں