.

کویت سے فلپائنی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر بے دخل کرنے کی وضاحت طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن نے کویت سے اپنے سفیر ریناٹو ویلا کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے بے دخل کرنے کی وضاحت کی ہے۔

فلپائنی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ محکمہ خارجہ نے منیلا میں کویت کے سفارت خانے کو ایک سفارتی نوٹ بھیجا ہے۔اس میں کویت میں متعیّن فلپائنی سفیر ریناٹو پیڈرو ویلا کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے پر سخت حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے‘‘۔

اس نوٹ میں فلپائنی وزیر خارجہ ایلن پیٹر کیٹانو نے کویتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ فلپائنی سفارت خانے کے چار ملازمین کو حراست میں رکھنے اور تین سفارتی اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی بھی وضاحت کرے‘‘۔

فلپائن کا کہنا ہے کہ اس کے سفارت خانے نے چار زیر حراست افراد میں سے تین کی کویت میں مشکلات کا شکار گھریلو ملازماؤں کو ان کے آجروں کے گھروں سے نکالنے کے لیے خدمات حاصل کی تھیں ۔

کویت نے بدھ کو فلپائنی سفیر کو ایک ہفتے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی اور منیلا میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔اس کے بعد کویت اور فلپائن کے درمیان جاری سفارتی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ کے ترجمان ہیری روک نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے۔انھوں نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:’’ ہمیں امید ہے کہ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید خراب نہیں ہوں گے‘‘۔

واضح رہے کہ فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے جنوری میں اپنے شہریوں کو کویت میں بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی اور انھوں نے یہ فیصلہ کویت میں فلپائنی تارکین وطن سے مبینہ ناروا سلوک کی اطلاعات اور ایک گھریلو ملازمہ کے ایک گھر کے فریزر میں مردہ پائے جانے کے واقعے کے بعد کیا تھا۔

ڈیوٹرٹ نے یہ سنگین الزام عاید کیا تھا کہ عرب آجر فلپائنی ملازماؤں کی عصمت ریزی کرتے ہیں ۔ان سے اکیس کیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور انھیں بچا کھچا کھانا دیا جاتا ہے۔

کویت کی ایک عدالت نے ڈیما فیلس کے قاتل میاں بیوی کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنائی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار ہوئی تھی ۔اس فیصلے کے بعد فلپائنی صدر نے اسی ماہ کویت کے دورے کا ا علان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کویت میں کام کرنے والے دو لاکھ باون ہزار فلپائنی تارکین وطن کے تحفظ کی ضمانت سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کریں گے۔

اس مجوزہ سمجھوتے میں ملازمین کی رخصت ، خوراک اور پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے سے متعلق شرائط وضع کی گئی تھیں ۔ تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اب صدر کے دورے اور اس کی تاریخوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

فلپائن نے منگل کے روز کویت سے گھریلو ملازماؤں کو نکالنے کے نام پر اپنے سفارت خانے کے عملہ کی کارروائیوں پر خلیجی ریاست سے باضابطہ طور پر معذرت کی تھی۔کویت نے گھروں میں کام کرنے والی فلپائنی ملازماؤں کو ’’ریسکیو‘‘ کے نام پر از خود بلا اطلاع نکالنے پرفلپائنی سفیر ریناٹو پیڈرو ویلا کو طلب کرکے ان سے باقاعدہ احتجاج کیا تھا اور گذشتہ ہفتے کے روز ایسے کارروائیوں میں ملوث فلپائنی سفارتی عملہ کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔

کویتی وزارت خارجہ نے بعض فلپائنی حکام کے کویت کے خلاف حالیہ جارحانہ بیانات پر دو احتجاجی مراسلے سفیر کے حوالے کیے تھے۔ ان میں فلپائنی سفارت خانے کے بعض ملازمین کی سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا تھا۔

اس دوران میں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی ،اس میں فلپائنی سفارت خانے کی ایک ٹیم سفارتی لائسنس پلیٹ والی کاروں پر گھریلو ملازمین کو کویتی گھروں سے مبینہ طور پر اسمگل کرکے لے جارہی ہے۔

اس وقت دنیا کے مختلف ملکوں میں قریباً ایک کروڑ فلپائنی تارکین وطن روز گار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور ان کی ترسیلات زر کو فلپائن کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت حاصل ہے۔ کویت میں اس وقت دو لاکھ 65 ہزار سے زیادہ فلپائنی تارکین وطن کام کررہے ہیں۔ان میں 65 فی صد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں ۔