شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی 'تاریخ ساز' ملاقات

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان جنوبی کوریا جانے والے پہلے رہنما بن گئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کم جونگ ان شمالی کوریا کے پہلے رہنما ہیں جو سنہ 1953 کی کورین جنگ کے اختتام کے بعد سرحد پار کر کے جنوبی کوریا میں داخل ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس تاریخی موقعے پر شمالی کوریا کے رہنما سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔

اپنی آمد پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس موقعے کو امن کے لیے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انھوں نے پیس ہاؤس میں کتاب پر لکھا ’ایک نئی تاریخ اب شروع ہو رہی ہے، نئی تاریخ کا آعاز اور امن کا دور۔‘

ان دونوں کی ملاقات غیر فوجی علاقے یعنی ڈی ایم زیڈ میں ہو گی، تاہم بعض میڈیا اداروں پر کم جونگ ان کا یہ بیان بھی چل رہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ’بلو ہاؤس‘ (جنوبی کوریا کے سربراہ کی رہائش گاہ) جانے کے لیے تیار ہیں۔

اس تاریخی ملاقات میں شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کے عندیے پر توجہ ہو گی۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان ملاقات کے لیے دارالحکومت پیانگ یانگ سے سرحد کے لیے روانہ ہوئے۔

سرکاری ایجنسی نے کہا کہ کم جونگ ان نے روانگی سے قبل کہا کہ وہ مون جے ان کے ساتھ ان تمام معاملات پر بات کریں گے جن سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان سیؤل سے غیر فوجی علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔

شمالی کوریا کے رہنما ڈی ایم زیڈ میں ہی رہیں گے لیکن وہ فوجی حد کی لائن عبور کریں گے جو دونوں ممالک کی سرحد کی پہچان ہے۔

کم جونگ ان ڈی ایم زیڈ تک گاڑی میں آئیں گے لیکن اجلاس والی جگہ تک پیدل آئیں گے۔ وہ اسی حصے سے سرحد عبور کریں گے جہاں سے حال ہی میں ایک شمالی کوریا سے بھاگنے والے شخص نے سرحد عبور کی تھی جس کو شمالی کوریا کے فوجیوں نے گولیاں ماری تھیں۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان اپنے نو رکنی وفد کے ساتھ ڈی ایم زیڈ میں بنے کمرے میں کم جونگ ان سے ملیں گے۔ جنوبی کوریا کا گارڈ آف آنر دونوں رہنماؤں کو ملٹری کمپاؤنڈ تک لے کر جائے گا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت رات ڈیڑھ بجے جی ایم ٹی شروع ہو گی۔ پہلے دور کے بعد وہ علاحدہ علاحدہ دوپہر کا کھانا کھائیں گے کیونکہ شمالی کوریا کا وفد کھانے کے لیے واپس شمالی کوریا جائے گا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد دونوں رہنما درخت لگائیں گے۔

اس کے بعد دونوں رہنما بات چیت کے دوسرے دور کا آغاز کریں گے۔ اس بات چیت کے اختتام پر معاہدے پر دستخط ہوں گے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں