.

صنعاء: حوثی رہ نماؤں کے اجلاس پر اتحادی طیاروں کے حملے میں 38 باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں وزارت داخلہ کی عمارت (جس پر باغیوں کا قبضہ ہے) پر اتحادی طیاروں کی بم باری کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کے 38 سے زیادہ سکیورٹی نگراں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق یہ افراد باغیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد کی تدفین کے سلسلے میں خاص طور پر جمع ہوئے تھے۔ خیال ہے کہ باغیوں کی حکومت کے نائب وزیر داخلہ عبدالحکیم الخیوانی عُرف ابو الکرار، الخیوانی کے دفتر کا ڈائریکٹر "المرونی" اور الصماد کی تدفین کی رسومات کا سکیورٹی ذمّے دار "ابو آلاء" بھی نشانہ بننے والے افراد میں شامل ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حوثی ملیشیا نے وزارت داخلہ کی عمارت کے اطراف واقع علاقوں میں چھاپے مارے اور اس دوران فوجی اہل کار، افسران اور عام شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

دارالحکومت صنعاء کے تمام حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب کہ اس دوران اتحادی طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔

عرب عسکری اتحاد کی جانب سے حوثیوں کا سکیورٹی حصار توڑ ڈالنے اور الحدیدہ شہر میں دوسرے مطلوب ترین باغی صالح الصماد تک رسائی کے بعد حوثی قیادت خوف و دہشت کا شکار ہے اور آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے پہلی مرتبہ روپوشی پر مجبور ہو گئی ہے۔