.

پاسداران انقلاب کی قیادت سے اختلاف، جنرل سلیمانی کے استعفے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پاسداران انقلاب کی عسکری قیادت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے باعث بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے استعفے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے چیف جنرل محمد علی جعفری اور پاسداران کے بیرون ملک سرگرم ونگ ’فیلق القدس‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان اختلافات کی خبریں نئی نہیں۔ دونوں میں گہرے اختلافات کافی عرصے سے چل رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’آریا‘ نے جمعرات کی شام اپنی ویب سائیٹ پر ایک خبر پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے پاسداران انقلاب سے اختلافات کے بعد سپریم لیڈر نے انہیں ان کےعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم کچھ دیر کے بعد یہ خبر ویب سائیٹ سے ہٹا دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ’تہران ٹائمز‘ نامی ایک چینل نے ٹیلی گرام پر ایک خبر پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ سپریم لیڈر پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری کو ہٹانے کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کی جگہ یہ منصب قاسم سلیمانی کو سونپیں گے۔

جنرل سلیمانی کی تعیناتی

’آریا‘ خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں جنرل قاسم سلیمانی پر بعض الزامات بھی عاید کیے ہیں۔ ان میں کرپشن اور عدم شفافیت کا الزام نمایاں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای انقلابی اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ میں پاسداران انقلاب کے سینیر جرنیلوں بالخصوص جنرل باقی اور جنرل جعفر کی خدمات کو سراہا گیا ہے تاہم ساتھ ہی پاسداران کی نئی قیادت کی تیاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔

’آریا‘ کے مطابق سپریم لیڈرکے بیانات سے کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ وہ انقلابی نظام، آزدی اور وطن کی سالیمت کے لیے ٹھوس حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ جہاں تک جنرل قاسم سلیمانی کا تعلق ہے تو انہوں نے عراق اور شام میں ایران کے لیے بہت کچھ کیا ہے مگر انہیں پاسداران انقلاب کے سربراہ کے طور پر تعینات کرنے پر بہت سے ایرانی لیڈروں کو تحفظات ہوسکتے ہیں۔

افریقی لیڈروں کی رشت سے متعلق سلیمانی کا جھوٹ

جنرل سلیمانی اور پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا ایک پہلو افریقی رہ نماؤں کو خریدنے کے لیے رشوت کا لین دین کا الزام بھی شامل ہے۔

سابق صدر محمود احمدی نژاد کے نائب حمید بقائی کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات میں جنرل سلیمانی بھی مورد الزام ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ فارسی ویب سائیٹ ’بہار‘ کے مطابق حمید بقائی نے افریقی رہ نماؤں کو خریدنے کے لیے جنرل سلیمانی سے 7 لاکھ یورو اور ہزاروں ڈالر کی رقم وصول نہیں کی تھی۔ اس حوالے سے جنرل سلیمانی اور بعض دوسرے پاسداران انقلاب کے لیڈروں کے بیانات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے انکشاف کیا تھا کہ اگست 2013ء کو جنرل قاسم سلیمانی نے افریقی ممالک کے رہ نماؤں کی وفاداریاں خریدنے کے لیے حمید بقائی کو بھاری رقوم فراہم کی تھیں۔ بعد ازاں یہ کہا گیا تھا کہ حمید بقائی نے وہ رقم اصل مصرف پر استعمال نہیں کی بلکہ اسے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

حمید بقائی جو اس وقت کرپشن کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں نے جنرل سلیمانی سے کسی قسم کی رقم وصول کرنے کی سختی سے تردید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات کا مقصد انہیں بدنام کرنے اور عوام میں متنازع بنانے کےسوا اور کچھ نہیں۔