شامی فوج کا امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز سے لڑائی کے بعد متعدد دیہات پر دوبارہ قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج نے عراق کی سرحد کے نزدیک دریائے فرات کے مشرق میں واقع متعدد دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) کو پسپا کر دیا ہے۔

کرد ملیشیا کے زیر قیادت عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز نے گذشتہ سال امریکا کی فضائی مدد سے صوبے دیر الزور میں دریائے فرات کے مشرق میں واقع بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور داعش کے جنگجوؤں کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔

شامی فوج نے ماضی میں شامی جمہوری فورسز سے براہ راست محاذ آرائی سے گریز کیا ہے اور اس نے دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقوں میں مختلف باغی جنگجو گروپوں کے خلاف لڑائی پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ میں باغی گروپوں کو سرنگوں کرنے کے بعد اب مشرقی صوبوں کی جانب بھی پیش قدمی شروع کردی ہے اور وہ کرد فورسز کے زیر قبضہ علاقوں کو حکومت کی عمل داری میں لارہی ہے۔

ایس ڈی ایف کے کسی عہدے دار نے فوری طور پر شامی فوج کی اس پیش قدمی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔قبل ازیں ایس ڈی ایف نے اتوار کی صبح یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی شامی فوج کے ساتھ دریائے فرات کے نزدیک واقع گاؤں جنین میں شدید لڑائی ہورہی ہے۔اس نے شامی حکام پر اس علاقے میں داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے لیے تیاریوں کو تہس نہس کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ فروری میں امریکا کے لڑاکا طیاروں نے دیر الزور میں ایس ڈی ایف کے زیر قبضہ ایک گیس فیلڈ کی جانب پیش قدمی کرنے والے شامی فوجیوں پر فضائی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دسیوں شامی فوجی اور روس کے نیم فوجی کنٹریکٹر ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں