ایران کے میزائل سسٹم اورحزب اللہ کی مدد کا سدباب ہونا چاہیے: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیرخارجہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تہران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور حزب اللہ کے امداد کا سد باب کیا جائے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکا ایران کے میزائل پروگرام اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے بڑھتے اثرو رسوخ کو خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

سیکریٹری خارجہ پومپیو ہفتے کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے تھے جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے عشائیے میں شرکت کی تھی اور اتوار کو ان کے والد شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد وہ اسرائیل پہنچے ہیں۔ اس کے بعد وہ اردن کے حکام کے ساتھ ملاقات کے لیے عمان بھی جائیں گے۔

مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے پر موقف واضح ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے میں کم زوریوں کو دور کرنا ہوگا۔

اس دورے کا مقصد علاقائی اتحادیوں کو ایران کے خلاف مزید پابندیوں کے لیے قائل کرنا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مجوزہ خاتمے کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ 12 مئی کو تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے جس سے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کا طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم ہوسکتا ہے۔

بیشتر عالمی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ اس معاہدے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں