حوثیوں نے "الصماد" کی تدفین کے لیے یہ مقام کیوں چُنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں عرب اتحاد کو مطلوب دوسرے اہم ترین شخص صالح الصماد کی تدفین کے لیے باغی حوثی ملیشیا نے جس مقام کا چُناؤ کیا اس نے یمنی عوامی حلقوں میں وسیع پیمانے پر غصّے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس سلسلے میں حوثیوں نے یمنی انقلاب کی تحریک کے شہداء کی علامت تاریخی مقام کو ایک دہشت گرد اور فرقہ واریت کے علم بردار شخص کی جائے تدفین میں تبدیل کر دیا۔

حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر میں عرب اتحاد کے طیاروں کے حملوں میں مارے جانے والے صالح الصماد اور اس کے چھ ساتھیوں کو اس یادگار کے پاس دفن کرنے کا ارادہ کیا جو دارالحکومت صنعاء کے السبعین اسکوائر پر کئی دہائیوں سے یمن میں 26 ستمبر 1962ء کے انقلاب میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجیوں اور نامعلوم افراد کی یاد تازہ کر رہا ہے۔

یمنی کارکنان کے مطابق اس مقام کا انتخاب درحقیقت کوئی من مانی نہیں بلکہ حوثیوں کی جانب سے یمن کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے جیسا کہ ان باغیوں نے ملک حال بھی تباہ کر دیا ہے۔ یمن میں مختلف قومی مواقع یعنی 26 سبتمبر، 14 اكتوبر اور30 نومبر کو وزیر دفاع اور چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے اس یادگار پر پھول رکھ کر شہداء کے لیے اپنی وفا کا اظہار کیا جاتا ہے۔

بہت سے یمنیوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ مذکورہ تاریخی مقام کو ایک فرقہ وارانہ شخصیت کے مزار میں تبدیل کر دیا جائے اور اس مقام کی تاریخی اور معنوی نشانی کو برباد کر دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں