عصمت فروشی کا دھندہ بے نقاب کرنے پرایرانی اخبار کا ایڈیٹر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی پولیس نے اصلاح پسندوں کے مقرب اخبار ’شرق‘ کے چیف ایڈیٹر مہدی رحمانیان کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر مشہد شہر میں قحبہ گری اور عصمت فروشی کا دھندہ بے نقاب کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے اصلاح پسند صحافی کو مشہد شہر میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ خیال رہے کہ مشہد کا شمار ایران کے مذہبی سیاحتی مراکز میں ہوتا ہے جہاں دیگر ایرانی سرکردہ شخصیات کے مزارات کے ساتھ اثنیٰ عشریہ شیعہ کے آٹھویں امام علی بن موسیٰ الرضا کا مزار بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کے مطابق رحمانیان کو مشہد پہنچنے پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ پہلے ہی عدالت سے حاصل کر رکھے تھے۔ گرفتاری کے بعد انہیں تفتیش کے لیے ایک حراستی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔

اخبار نے مشہد کے پراسیکیوٹر جنرل حسن حیدری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ صحافی مہدی رحمانیان نے رجائی کے علاقے کے باشندوں کے جذبات مشتعل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رحمانیان کے اخبار نے ایک رپورٹ چھاپی تھی جس میں رجائی کے علاقے کو عصمت فروشی کا اڈا قرار دیا تھا۔

’شرق‘ اخبار میں یہ رپورٹ 8 اپریل کو شائع کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ رجائی کی رہنے والی کچھ خواتین گھروں سے باہر نہیں نکلتیں اور جو نکلتی ہیں وہ صرف عصمت فروشی کے لیے جاتی ہیں، ان کی وجہ سے رجائی کا علاقہ قحبہ گری کا گڑھ بن چکا ہے۔

اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد ملک کے مذہبی اور متشدد حلقوں میں اخبار اور اس کی انتظامیہ کے خلاف سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ادھر تہران بلدیہ میں سماجی و ثقافتی کونسل کے عہدیدار محمد جواد حق شناس نے ایک بیان میں مہدی رحمانیان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رحمانیان کی گرفتاری کا کوئی آئینی جوازنہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں