فلپائنی صدر کو کویت سے تارکینِ وطن ورکروں کو واپس بلانے پر تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

فلپائن کے ایک مزدور گروپ اور ایک سینیٹر نے صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ پر کویت میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہزاروں ہم وطنوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈیوٹرٹ نے کویت میں تارکین وطن ورکروں کو ملک واپسی پر روزگار کی کوئی ضمانت نہیں دی ہے حالانکہ وہ اپنے اپنے خاندانوں کے کفیل اور ان کی کمائی کا واحد سہارا ہیں ۔

فلپائنی سینیٹ کی خاتون رکن ریسا ہونٹی وروس نے صدر ڈیوٹرٹ کے کویت سے ورکروں کو واپس بلانے کے فیصلے کو غیر ذمے دارانہ ، نابالغانہ اور تنگ نظری پر مبنی قرار دیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ صدر ڈیوٹرٹ کو ہزاروں فلپائنی تارکینِ وطن کی زندگیاں اور روزگار داؤ پر لگانے سے باز آجانا چاہیے‘‘۔

فلپائنی صدر نے کویت میں مقیم اپنے تمام تارکین ِ وطن ورکروں کو ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں ہدایت کی تھی کہ ’’وہ جلد سے جلد وہاں سے حب الوطنی کا احساس کرتے ہوئے وطن واپس آجائیں ‘‘۔ انھوں نے کہا:’’ جو کچھ رونما ہو رہا ہے، میں ا س کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا۔میں کویتی حکومت سے یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بظاہر ہم سے انتقام لے رہی ہے ۔میں مزید فلپائنی شہریوں کو کویت نہیں بھیجنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ انھیں پسند نہیں کرتے ہیں اور میں انھیں وہاں بھیجنے پر مکمل پابندی عاید کردوں گا‘‘۔

وہ آج 30 اپریل کو کویت کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے اور کویتی حکومت کے ساتھ فلپائنی تارکینِ وطن کے حقوق کی پاسداری سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کرنے والے تھے۔ فلپائنی صدر نے فروری میں کویت میں ورکروں کو بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی اور انھوں نے اپنی تقریر میں دوبارہ کہا ہے کہ کویت میں ورکروں کو نہ بھیجنے کا فیصلہ مستقل ہے لیکن ان کے ترجمان ہیری روک نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مزدو روں کے تحفظ کا سمجھوتا اب بھی ممکن ہے۔انھوں نے یہ بھی وضاحت کی ہے صدر ڈیوٹرٹ کسی کو بھی وطن واپسی پر مجبور نہیں کررہے ہیں ۔

واضح رہے کہ کویت نے فلپائنی سفارت خانے کے بعض ملازمین کی گھریلو خادماؤں کو ان کی جائے ملازمت سے اغوا کے انداز میں اٹھانے کی کارروائی کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور گذشتہ بدھ کو فلپائنی سفیر کو ایک ہفتے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی اور منیلا میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔اس کے بعد سے کویت اور فلپائن کے درمیان جاری سفارتی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے ۔

فلپائنی حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق کویت میں اس وقت دو لاکھ 65 ہزار سے زیادہ فلپائنی تارکینِ وطن کام کررہے ہیں۔ان میں 65 فی صد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ان تارکین وطن کی کمائی فلپائن میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بڑی اہمیت حامل ہے اور ان کی ترسیلات زر کا فلپائنی معیشت کا پہیہ چلانے میں بھی اہم کردار ہے۔

فلپائن کی وزارت محنت کے انڈر سیکریٹری جیکنٹو پارس کا کہنا ہے کہ صدر کے فیصلے کے تحت کویت سے قریباً 60 ہزار ورکروں کی واپسی ہوسکتی ہے۔انھوں نے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کویت میں گھروں میں کام چھوڑ کر بھاگنے والے یا والیاں اور ، ناروا سلوک کی شکایات کرنے والے تارکین وہاں سے وطن واپسی میں آزاد ہیں ‘‘۔

فلپائنی تارکین وطن کی تنظیم نے حکومت کے وطن واپسی کے خواہاں تارکین وطن کو امدادی رقوم دینے کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم تارکین وطن مزدوروں کی نقل مکانی کا موجب وجوہ کے خاتمے تک ان کی واپسی نہیں چاہتے ہیں ۔یہاں زمین اور روز گار کے بہتر مواقع نہ ہونے کی وجہ سے غُربت ہے اور درحقیقت یہ صورت حال ابتر ہورہی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں