.

ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ ختم نہ کیا جائے: پوتن، ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متنازع جوہری پروگرام پرطے پائے سمجھوتے کے حوالے سے امریکا کی تبدیلی ہوتی پالیسی کے تناظر میں روس اور فرانس نے اس معاہدے کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں نے جولائی 2015ء کو تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے معاہدے کو قائم رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کو ختم کرنے یا اس سے نکلنے کے بجائے اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

روس اور فرانس کی طرف سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی ایران کے حوالے سے پالیسی تبدیل کررہے ہیں۔

کرملین حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادی میر پوتن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں نے ٹیلیفون پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی ہے۔ دونوں صدور نے تہران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔