.

سال 2009ء کے بعد ایرانی جوہری پروگرام کا کوئی اشارہ نہیں ملا: آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی IAEA کا کہنا ہے کہ "اس کے پاس ایسی کوئی قابل اعتماد معلومات نہیں ہیں جو 2009ء کے بعد ایران میں جوہری بم تیار کرنے سے متعلق کسی سرگرمی کی جانب اشارہ کرتی ہوں"۔

ایجنسی کے ترجمان نے منگل کے روز بتایا کہ ایجنسی کی کمیٹی نے دسمبر 2015ء میں موصول ہونے والی رپورٹ کے بعد اس مسئلے پر غور کرنا ختم کر دیا۔

آئی اے ای اے نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے الزامات کا براہ راست جواب دینے سے انکار کر دیا۔

آئی اے ای اے کے ترجمان کے مطابق ایجنسی کا یہ معمول نہیں ہے کہ اس نوعیت کی معلومات سے متعلق معاملات کو اعلانیہ طور پر زیر بحث لائے۔

نیتن یاہو نے پیر کے روز اپنے طور پر ایران کے جوہری ہتھیاروں کے مبینہ خفیہ پروگرام کے بارے میں ثبوت پیش کرتے ہوئے امریکا پر دباؤ بڑھا دیا کہ وہ 2015ء میں طے پائے جانے والے جوہری معاہدے سے دست بردار ہو جائے۔

یہ بات معروف ہے کہ ایران 2003ء تک جوہری ہتھیاروں کا پروگرام رکھتا تھا۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو پرانے الزامات پھر سے دہرا رہے ہیں۔