.

معاہدہ ٹوٹنے پر یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی ایرانی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ عالمی طاقتوں نے تہران کے ساتھ کیے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران کے پاس یورینیم افزدوگی کا عمل بحال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کردہ ایک بیان میں علی اکبر صالحی کا کہنا ہے کہ تکنیکی اعتبار سے ایران کے لیے یورینیم افزودگی پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہوگئی ہے۔ اگر تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہم بڑے پیمانے پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم افزودہ کریں گے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ وہ جوہری سمجھوتے سے باہر نکلنے کے نتائج سامنے رکھیں۔ اگر ہمارے ساتھ طے کردہ معاہدہ ٹوٹتا ہے تو ہم بلا تاخیر بڑے پیمانے پر یورینیم افزدوہ کریں گے۔

علی اکبر صالحی نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا جلد ی اس معاہدے سے الگ ہوجائے گا جس کے بعد اس کے قائم رہنے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی صائب فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے پر 12 مئی تک تمام نقائص دور کرنے کی مہلت دی ہے جس کے بعد امریکا اپنا نیا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کی خامیاں دور نہیں کی جاتی ہیں تو امریکا تہران پر پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔ موجودہ معاہدے کے تحت ایران کو معمولی درجے کے یورینیم افزودگی کی اجازت ہے مگر اطلاعات ہیں کہ سنہ 2016ء کے بعد ایران 3.5 فی صد یورینیم افزودہ کرتا رہا ہے۔