.

پروفیسر طارق رمضان سے پانچ سال تک تعلق رہا تھا: بیلجئن عورت کا نیا دعویٰ

ٹی وی انٹرویو میں دینیات کے اسکالر پر مذہب کو خواتین سے ناروا سلوک کے لیے استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی کالعدم سیاسی و مذہبی جماعت الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے پوتے پروفیسر ڈاکٹر طارق رمضان پر مختلف عورتوں کی جانب سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور مراکش نژاد بیلجیئن عورت نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کا باہمی تعلق پانچ سال تک قائم رہا تھا۔

ماجدہ برنوسی نامی اس عورت کے بہ قول اس عرصے کے دوران میں پروفیسر طارق رمضان مسلسل انھیں نفسیاتی طور پر اذیتیں دیتے رہے تھے اور انھیں نفسیاتی عارضے میں مبتلا کردیا تھا۔ واضح رہے کہ اسی عورت نے سب سے پہلے 2014ء میں طارق رمضان پر نازیبا سلوک کا الزام عاید کیا تھا اور ان سے اپنے تعلقات کو تباہ کن قرار دیا تھا۔

تاہم بعد میں تین سال تک وہ خاموش رہی تھیں اور فرانسیسی اور بیلجیئن کے میڈیا نے یہ انکشاف کیا تھا کہ مصری نژاد سوئس اسکالر نے انھیں خاموش رہنے کے لیے 33 ہزار ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔

تاہم اس 45 سالہ خاتون نے بیلجیئن کے ایک ٹی وی چینل سے اس تازہ انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ انھوں نے ابھی تک طارق رمضان کے خلاف کسی عدالت میں کوئی شکایت دائر نہیں کی ہے۔اب اس عورت کے بہ قول اس نے اپنے خوف پر قابو پانے کا فیصلہ کیا ہے اور طارق رمضان کے ساتھ گزرے مشکل وقت کو بیان کرنا شروع کردیا ہے۔

ماجدہ کا کہنا ہے کہ طارق رمضان ایک انتہائی غیر صحت مند استحصالی شخص ہے۔وہ دانشورانہ اور جسمانی طور پر حقیقی معنوں میں ایک گنوار اور سفاک ہے۔وہ ایک گم راہ شخص ہے اور وہ دین کو خواتین سے ناروا سلوک کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ جو کرنا چاہتا ہے، کر گزرتا ہے‘‘۔

یاد رہے کہ بیلجیئم کی ایک عدالت کے جج لک ہینارٹ نے کچھ عرصہ قبل فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ 55 سالہ طارق رمضان نے اس مراکش نژاد بیلجیئن عورت کو 27 ہزار یورو (33 ہزار ڈالرز) ادا کیے تھے اور اس سے یہ کہا تھا کہ وہ دونوں کے تعلق کے حوالے سے آن لائن کوئی تفصیل پوسٹ کرنے کا سلسلہ بند کردیں۔

پروفیسر طارق رمضان کو فرانس کی ایک عدالت کے حکم پر فروری میں دو مسلم عورتوں کی عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور و ہ اس وقت سے پیرس کے نواح میں ایک جیل میں بند ہیں۔اس دوران میں ایک تیسری عورت نے بھی ان پر عصمت ریزی کے الزامات عاید کیے ہیں لیکن وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔

فرانسیسی ویب سائٹ میڈیا پارٹ کے مطابق برسلز میں پروفیسر اور ماجدہ برنوسی کے درمیان ایک تصفیہ طے پایا تھا۔اس عورت نے پروفیسر کے خلاف جنسی حملے کا تو الزام عاید نہیں کیا تھا لیکن یہ کہا تھا کہ انھوں نے اس کو نفسیاتی عارضے میں مبتلا کردیا ہے۔

ان دونوں کے درمیان طے شدہ تصفیے کے مطابق ماجدہ برنوسی نے مذکورہ بالا رقم کے عوض اپنی آن لائن پوسٹوں کو حذف کرنے سے اتفاق کیا تھا اور نئی پوسٹیں شائع نہ کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔اس کے علاوہ پروفیسر طارق رمضان اور ان کے خاندان کو آیندہ دھمکی آمیز اور جارحانہ پیغامات بھی نہ بھیجنے سے اتفاق کیا تھا۔