.

کون سے سربراہ مملکت نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا حق دار قرار دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان امن مساعی کیا شروع ہوئیں کہ جنوبی کوریا کے سربراہ نے ان کوششوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا مرہون منت قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا مستحق قرار دیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر مون جی ان نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا کہ شمالی اور جنوبی کوریا کو امن کی راہ پر لانے کے بدلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن انعام کا حق دار ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہ تجویز اس وقت دی جب کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے آنجہانی صدر کیم ڈائی جونگ کی بیوہ کو امن انعام دیا جائے۔ ان کے شوہر کو سنہ 2000ء میں اس وقت کے شمالی کوریائی لیڈر کیم جونگ ال کے سے ملاقات کرنے پر امن انعام دیا گیا تھا۔

گذشتہ جمعہ کو شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان نے طویل سرد جنگ کے بعد کشیدگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے سرحد پر ڈی ملیٹرائزڈ علاقے میں ملاقات کر کے دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے۔

کل سوموار کو جنوبی کوریا کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ شمالی کوریا کی سرحد پر پروپیگنڈہ لائوڈ اسپیکر ہٹانے کے لیے تیار ہے۔ توقع ہے کہ شمالی کوریا بھی اس کی پیروی کرے گا۔ اس موقع پر جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ ہمیں صرف امن کی ضرورت ہے، امریکی صدر کا کوریائی ممالک کے درمیان جنگ ختم کرانے میں اہم کردار ہے۔ انہیں امن نوبیل انعام ملنا چاہیے۔

ادھر شمالی کوریا کی طرف سے سرحد پر پروپیگنڈے کے لیے لگائے گئے لاؤڈ اسپیکر پہلے ہی خاموش کرائے جا چکے ہیں۔ شمالی کوریا کے سربراہ کاکہنا ہے کہ اگر امریکا چڑھائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے تو وہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر آنے کو تیار ہیں۔