کون سے سربراہ مملکت نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا حق دار قرار دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان امن مساعی کیا شروع ہوئیں کہ جنوبی کوریا کے سربراہ نے ان کوششوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا مرہون منت قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا مستحق قرار دیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر مون جی ان نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا کہ شمالی اور جنوبی کوریا کو امن کی راہ پر لانے کے بدلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن انعام کا حق دار ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہ تجویز اس وقت دی جب کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے آنجہانی صدر کیم ڈائی جونگ کی بیوہ کو امن انعام دیا جائے۔ ان کے شوہر کو سنہ 2000ء میں اس وقت کے شمالی کوریائی لیڈر کیم جونگ ال کے سے ملاقات کرنے پر امن انعام دیا گیا تھا۔

گذشتہ جمعہ کو شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان نے طویل سرد جنگ کے بعد کشیدگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے سرحد پر ڈی ملیٹرائزڈ علاقے میں ملاقات کر کے دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے۔

کل سوموار کو جنوبی کوریا کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ شمالی کوریا کی سرحد پر پروپیگنڈہ لائوڈ اسپیکر ہٹانے کے لیے تیار ہے۔ توقع ہے کہ شمالی کوریا بھی اس کی پیروی کرے گا۔ اس موقع پر جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ ہمیں صرف امن کی ضرورت ہے، امریکی صدر کا کوریائی ممالک کے درمیان جنگ ختم کرانے میں اہم کردار ہے۔ انہیں امن نوبیل انعام ملنا چاہیے۔

ادھر شمالی کوریا کی طرف سے سرحد پر پروپیگنڈے کے لیے لگائے گئے لاؤڈ اسپیکر پہلے ہی خاموش کرائے جا چکے ہیں۔ شمالی کوریا کے سربراہ کاکہنا ہے کہ اگر امریکا چڑھائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے تو وہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر آنے کو تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں