.

مراکش اور حزب اللہ کے درمیان بحران کی بنیاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب رباط نے معزول شاہ ایران کا استقبال کیا اور پھر اس کے بعد عراق ایران جنگ میں بغداد حکومت کا ساتھ دیا۔ عدم اعتبار اور تاریخی عداوت کے سبب سفارتی تعلقات بحال ہو کر پھر سے منقطع ہوتے رہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان دوسری مرتبہ تعلقات اُس وقت منقطع ہوئے جب 2009ء میں ایرانی سفارت خانے کا ایک خفیہ منصوبے میں ملوث ہونا سامنے آیا۔ اس منصوبے کا مقصد مملکت مراکش میں شیعہ مسلک پھیلانا تھا۔

چناںچہ مراکش اور لبنان میں ایران نواز ملیشیا "حزب اللہ" کے درمیان تنازع نے بھی آج جنم نہیں لیا۔ یہ اپنے پس منظر میں اقتصادی، سیاسی اور تجارتی زاویے رکھتا ہے۔

براعظم افریقہ میں مراکش کی معیشت کی توسیع سے حزب اللہ ملیشیا خوف زدہ ہو گئی اور کیوں کہ اس شیعہ ملیشیا کو پالنے والوں نے مغربی افریقہ میں ضخیم تجارتی اور مالیاتی سلطنتیں قائم کر لی تھیں۔ مراکش کی جانب سے اس بھرپور تجارتی اور اقتصادی موجودگی نے حزب اللہ کو سپورٹ کرنے والے شیعہ تاجروں اور بیوپاریوں کو چیلنج کر دیا اور ان کو بھاری مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔

علاوہ ازیں مراکش نے براعظم میں ایران کے پھیلاؤ اور شیعہ مسلک پھیلانے کے ذریعے سنی مذہبی شناخت کی تبدیلی کی کوشش کا راستہ روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دیں۔

اسی سلسلے میں مراکش کے فرماں روا اسلام کے معتدل مالکی سنی مسلک کے دفاع کے لیے علماء کے خصوصی ادارے Mohammed VI Foundation of African Oulema کا قیام عمل میں لائے۔

اس ضخیم ادارے کے مقاصد میں شیعیت اور ایرانی اور لبنانی اداروں کی جانب سے سراہی جانے ولی مسلکی تبدیلی کی مزاحمت شامل ہے۔ یہ ادارے مال کی بنیاد پر غریب افریقی مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے سنی مسلک اور عقیدے کو تبدیل کر لیں۔

مراکش نے افریقی آئمہ کی تربیت کے واسطے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا اور سیکڑوں دینی مدارس اور مساجد بنائیں۔ اس حوالے سے مراکش افریقہ علماء کے ساتھ خصوصی روابط رکھتا ہے اور ہر سال ان شخصیات کی ایک بڑی تعداد کا استقبال کرتا ہے۔ یہاں ان کی بھرپور مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ ان کو مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے اور بہترین ہسپتالوں میں انہیں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

مراکش اور افریقیوں کے بیچ اس مضبوط روحانی تعلق نے حزب اللہ اور ایران کو چراغ پا کر رکھا ہے جو براعظم افریقہ میں اسلام کے سنی مسلک کے مضبوط نظام کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مراکش میں فاس شہر روحانی اور علمی دارالحکومت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افریقی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے مقابل افریقی ممالک کے شہریوں کی بہت تھوڑی تعداد لبنانی اور ایرانی اداروں کی دعوت کو قبول کر کے ایران کے شہر قُم جاتے ہیں۔

مراکش اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ بحران کی چنگاری اُس وقت بھڑکی جب مراکش نے لبنانی تاجر قاسم تاج الدین کو رواں برس مارچ میں الدار البیضاء کے ہوائی اڈے سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کر دیا۔ مذکورہ تاجر حزب اللہ کی قیادت کا مقرّب ہے۔ جمہوریہ گِنی سے بیروت آتے ہوئے تاجر کو انٹرپول کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ تاج الدین کا نام حزب اللہ کی فنڈنگ کے الزام کے سبب مئی 2009 سے امریکی وزارت خزانہ کی بلیک لسٹ میں درج ہے۔

ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے ارکان اور عسکری کمانڈرز نے ایک برس سے الجزائر کے دورے شروع کر دیے۔ ان دوروں کا مقصد الجزائر کے جنوب میں تندوف کے کیمپوں میں صحرائی جنگجوؤں کو تربیت دینا ہے۔ اس دوران جنوبی لبنان سے ہتھیاروں، گولہ بارود اور دواؤں کی کھیپوں کو تندوف کیمپ منتقل کیا گیا۔ تاہم بولیساریو فرنٹ اور ایران کے زیر انتظام ملیشیا کے درمیان تعاون نے حتمی طور پر مراکش اور ایران کے درمیان تعلقات منقطع کر دیے۔

پولیساریو نے دوبارہ سے لڑائی کی دھمکی دی اور مراکش کی سکیورٹی باڑ سے چند میٹروں کے فاصلے پر چیک پوائنٹس قائم کر لیے۔ کشیدگی کی اپنی انتہا پر اس وقت جا پہنچی جب صحرائی مسلح عناصر نے موریتانیا اور مغربی افریقہ کے ممالک کا رخ کرنے والی مراکشی گاڑیوں اور ٹرکوں کی تلاشی شروع کر دی۔ مراکش نے ان "اشتعال انگیزیوں" کو اپنی قومی سلامتی اور وحدت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

معاملے کا جائزہ لینے والے مراکشی ذرائع کے مطابق الجزائر میں ایرانی سفارت خانے کا ثقافتی اتاشی امیر موسوی حزب اللہ اور علاحدگی پسند بولیساریو فرنٹ کے بیچ رابطے کا ذریعہ تھا۔ بولیساریو فرنٹ الجزائر کے مغربی صحراء کے صوبے کی خود مختاری کا مطالبہ کرتا ہے۔

مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ موسوی دراصل ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک سینئر رکن اور ایرانی انٹیلی جنس کا ایک بڑا افسر ہے۔ 90ء کی دہائی کے آغاز سے ہی مشرق وسطی میں تمام سنی اور شیعہ شدت پسند جماعتوں اور ملیشیاؤں کے ساتھ اس کے تعلقات رہے ہیں۔ ماضی میں اس کا رابطہ القاعدہ اور افغان طالبان تحریک کی قیادت کے ساتھ بھی رہا ہے۔

ایرانی مداخلت کو شدت کے ساتھ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے "مراکشی مرکز برائے تزویراتی مطالعات" کے سربراہ محمد بنحمو نے حزب اللہ کو ایران کے ہاتھوں استعمال ہونے والا "جرثومہ" قرار دیا۔ بنحمو کے مطابق حزب اللہ لبنان اور شام میں اپنے لڑائی کے تجربات کو مراکش اور الجزائر کے درمیان سرحد پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔ حزب اللہ نے بولیساریو فرنٹ کو ہتھیاروں کی کھیپ کی کھیپ فراہم کی جن میں "سام" میزائل شامل ہیں۔