.

نیتن یاہو کے دعوی کے بعد ایرانی جوہری معاہدے کی اہمیت بڑھ گئی ہے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے اسرائیلی دعووں کی مکمل انداز میں تصدیق کی جانا چاہیے۔ یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اپنے دعووں کا ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے اسرائیلی دعووں کی مکمل انداز میں تصدیق کی جانا چاہیے۔ بورس جانسن کے بقول ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے انکشافات کے بعد جوہری معاہدے پر عمل درآمد اور بھی ضروری ہو گیا ہے کیونکہ اس طرح تہران کو اس کے جوہری ارادوں سے باز رکھنا ممکن ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ روز ان کے بقول ایسی خفیہ جوہری دستاویزات پیش کی تھیں، جن کا تعلق ایران کی جانب سے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار سازی سے تھا۔

ادھر دوسری طرف یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدیریکا موگیرینی نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو ابھی تک اپنے ان الزامات کےا حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

فیدریکا موگیرینی نے کہا کہ تہران جوہری ہتھیاروں سے متعلق اپنا پروگرام ترک کر چکا ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے معائنوں کی صورت میں خود پر عائد ہونے والی ذمے داریاں بھی پوری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کا عالمی ادارہ اپنی ایسی کئی رپورٹیں جاری کر چکا ہے، جن کے مطابق ایران جوہری ڈیل کے تمام حصوں پر پوری طرح عمل درآمد کر رہا ہے۔