.

مراکش کا الجزائر پر ’پولیساریو فرنٹ‘ کی مدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک مراکش کی جانب سے علاحدگی پسند پولیساریو فرنٹ کو معاونت فراہم کرنے پر ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے بعد الرباط کی الجزائر کے ساتھ بھی کشیدگی سامنے آئی ہے۔

مراکش کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزائر بھی خفیہ طور پر ایران کے ساتھ مل کر پولیسارو فرنٹ کی معاونت کر رہے۔

ایک بیان میں مراکشی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ الجزائر کی مراکش کی قومی سلامتی کے خلاف خاموش سازشوں کو سمجھتے ہیں۔ الجزائر بھی وہی کچھ کررہا ہے جو ایران اور حزب اللہ کرتی چلی آ رہ ہے۔

بیان میں ایران اور حزب اللہ پر پولیسارو فرنٹ کی مالی، عسکری اور لاجسٹک سپورٹ کے الزام کا اعادہ بھی کیا گیا۔

بدھ کو مراکشی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک نئے بیان میں کہا گیا کہ وہ پڑوسی ملک الجزائر کی ایران، حزب اللہ اور پولیساریو فرنٹ نواز پالیسی کو سمجھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے کافی غور وخوض اور باریکی سے چھان بین کے بعد معلومات حاصل کی ہیں کہ پولیساریو فرنٹ کو حزب اللہ ملیشیا کی طرف سے الجزائر کی سرزمین پر عسکری تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ سفارتی طور پر الجزائر اس اقدام کا ذمہ دار ہے۔

بیان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ الجزائر سنہ 1975ء سے پولیساریو فرنٹ کی مدد کررہا ہے جو مغربی صحارا میں علاحدگی کے لیے کوشاں ہیں۔ الجزائر کی طرف سے پولیسارو فرنٹ کو نہ صرف مالی اور عسکری مدد فراہم کی گئی ہے بلکہ گروپ کے عناصر کو سفارتی تحفظ بھی دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل مراکش نے ایران کے ساتھ یہ کہہ کر سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے کہ تہران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ علاحدگی پسند پولیساریو فرنٹ کی مدد کررہے ہیں۔ فرنٹ کے جنگجوؤں کو الجزائر کی سرزمین پر ایرانی اور حزب اللہ کے عسکری مشیر جنگی تربیت دیتے ہیں۔

دریں اثناء عرب لیگ نے بھی ایران کے مقابلے میں مراکش کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے رباط کےساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

عرب لیگ کی طرف سے جاری کدہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مراکش میں ایران کی مجرمانہ مداخلت انتہائی خطرناک ہے۔ عرب لیگ ایران کی مراکش میں پولیساریو فرنٹ کی مدد کی شدید مذمت اور اسے مراکش کی قومی سلامتی کے خلاف خطرناک سازش سے تعبیر کرتی ہے۔

عرب لیگ کے ترجمان محمود عفیفی نے کہا کہ حال ہی میں سعودی عرب کےشہر الظہران میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں بھی ایران کی عرب ممالک کے اندرونی امور میں کھلی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔