.

کیا صدر ٹرمپ کی ممکنہ پابندیوں سے بندرعباس ریفائنری ایران کے لیے مسئلہ بن جائے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے چھے بڑی طاقتوں کے سمجھوتے کے بارے میں آیندہ ہفتے عشرے میں اپنا فیصلہ سنانے والے ہیں۔وہ اس کو ایک برا سمجھوتا قرار دے چکے ہیں ، جس کے نتیجے میں ان کے بہ قول آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظام کو خطے میں دہشت گردی پھیلانے کا موقع مل گیا تھا۔

ایران صدر ٹرمپ کے ممکنہ اقدام اور نئی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے ایک جوابی حکمت عملی وضع کررہا ہے۔ایرانی عہدے داروں کے نزدیک یہ متبادل حکمت عملی انھیں امریکا کی مجوزہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے گی۔

لیکن فنانشیل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر تیل علی رضا صادق آبادی نے اس ضمن میں ایک بالواسطہ پیغام دے دیا ہے۔انھوں نے حال ہی میں بندر عباس میں واقع گلف اسٹار ریفائنری کا دورہ کیا ہے۔یہ ایران کا تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہمیں معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے پیٹرول مہیا کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ہمیں ریفائنری مکمل کرنے اور پیٹرول کی پیداوار کے لیے کسی قسم کے ضروری آلات اور سامان درآمد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی‘‘۔

لیکن ماہرین کے مطابق تہران میں نظام کے کار پردازوں کو اس شعبے میں 2016ء میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہونے والی پیش رفت کے باوجود آنے والے وقت میں درپیش ہونے والی مشکلات کا اندازہ نہیں ہے کیونکہ اس مرتبہ اگر امریکا پابندیاں عاید کرتا ہے تو اس سے توانائی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

ایک ماہر ایمان ناصری نے فنانشیل ٹائمز کو بتایا ہے کہ توانائی کا شعبہ ایک بڑا ہدف ہو گا۔ اگر امریکا جوہری معاہدے سے دستبردار ہوجاتا ہے یا وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عاید کر دیتا ہے تو ایران کی خام تیل کی برآمدات متاثر ہوگی اور اس کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت اور مستقبل میں تیل کی مصفا پیدوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایران جدت پسندی کے جن دوسرے پروگراموں کو ابھی تک بروئے کار نہیں لاسکا ہے،ان میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکے گی ۔

یادرہے کہ ایران نے جنوبی شہر بندر عباس میں تیل صاف کرنے کے کارخانے کی تعمیر کا آغاز سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں کیا تھا۔اس وقت ایران پر مختلف النوع پابندیاں عاید تھیں اور وہ اس ریفائنری کی تعمیر کے لیے درکار آلات کو درآمد نہیں کرسکتا تھا ۔

جولائی 2015ء میں ایران کے چھے بڑی طاقتوں سے جوہری پروگراموں پر سمجھوتے کے بعد صدر حسن روحانی نے ’’ایندھن میں آزادی‘‘ کی پالیسی کو ترجیح قرار دیا تھا ۔اس ریفائنری کے پہلے مرحلے کا 2017ء میں افتتاح کیا گیا تھا۔ اس ریفائنری کی تعمیر پر چار ارب یورو کی لاگت آئی تھی ۔اب یہ ایک کروڑ 60 لاکھ لیٹر یومیہ صاف پیٹرول پیدا کررہی ہے۔ایران آیندہ چند ہفتوں میں پیداوار کا یہ ہدف دو کروڑ 20 لاکھ لیٹر تک بڑھانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران پابندیوں کے زمانے میں بڑی کمپنیوں سے پیٹرول نہیں خرید کرسکتا تھا۔ ایرانی حکومت اپنے ہی پیٹروکیمیکل پلانٹس کی تیل کی غیر معیاری پیداوار پر انحصار پر مجبور تھی۔اس ایندھن کے استعمال کے نتیجے میں شہر وں میں ہر طرف سموگ نظر آتی تھی اور کار وں کے انجن بہت جلد ناکارہ ہوجاتے تھے۔

آج معیاری ایندھن کی بدولت یہ صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ایران کی خام تیل کی یومیہ پیداوار بھی 40 لاکھ بیرل یومیہ تک ہوچکی ہے۔ اس کی تیل کی برآمدات بھی بڑھ کر دگنا ہوچکی ہیں۔

لیکن اگر صدر ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کردیا تو اس کے لیے ان تمام کامیابیوں کو برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ایران کے وزیر تیل بیجان نامدار زنگانح نے بہ انداز دیگر پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے اس کا اعتراف کیا ہے۔انھوں نے کہا’’ ایران کو غیر ملکیوں سے تعاون کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں سرمائے اور ٹیکنالوجی دونوں کی ضرورت ہے۔ہمارے پاس اچھے مالی وسائل نہیں اور ہمیں سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے‘‘۔

زنگانح کا کہنا تھا کہ ایران کو 2021ء تک تیل کی پیداوار48 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے دوسو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر اگر نئی پابندیاں عاید کرتے ہیں تو ایران کو سب سے بڑے گیس فیلڈ جنوبی پارس کو مزید ترقی دینے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ ایرانی خام تیل کی ایشیائی ممالک کو فروخت متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی ایران پر پابندیوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت کریں گے۔