.

’پولیسارو فرنٹ‘ کا معاونت کار الجزائر میں تعینات ایرانی سفیرکون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی عرب ملک مراکش کی وزارت خارجہ نے الجزائر میں تعینات ایرانی سفیر پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ علاحدگی پسند پولیساریو فرنٹ کے جنگجوؤں کو الجزائر میں تربیت فراہم کرنے کے لیے ایرانی اور حزب اللہ کے عسکری ماہرین کی مدد لے رہا ہے۔ مراکش کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے علاحدگی پسند گروپ کو اسلحہ اور رقوم بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں الجزائر میں تعینات ایرانی سفیر کا تعارف پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 57 سالہ رضا عامری تہران کا پیدائشی ہے۔ وہ سنہ 1997ء، 1999 اور ستمبر 2012ء میں ایرانی وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر بھی کام کر چکا ہے۔

اس کے علاوہ عامری نے سودان، اریٹیریا اوربعض دوسرے ممالک میں بھی سفارت کار کے طورپر کام کیا۔ کویت میں اسے سفیر کے معاون کے عہدے پر بھی تعینات کیا گیا۔ اس نے کچھ عرصہ ایرانی وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے عہدے کا چارج بھی سنبھالا۔

سفارت کار رضا عامری کو ایران نے نومبر 2014ء کو الجزائر میں سفیر تعینات کیا۔ الجزائر میں عامری کی بہ طور سفیر تعیناتی کے پیچھے ان کا شمالی افریقا کے حوالے سے تجربہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ ایران شمالی افریقی ممالک میں اپنا اثرو نفوز بڑھانے کے لیے بھی ایسے افراد کو استعمال کرتا ہے۔

رضا عامری نے 9 فروری کو ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ الجزائر کا اعلان کیا۔ ایرانی صدر نے اس دورے کے دوران اسلامی انقلاب کی 38 سالگرہ کی ایک تقریب سے بھی خطاب کیا۔ اس تقریب میں الجزائری وزیر تعلیم طاھر حجار اور توانائی کے وزیر نورالدین بوطرفہ بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا عامری نے کہا کہ ایران اور الجزائر کے باہمی تعلقات دونوں ملکوں کے درمیان گہری دوستی کی زندہ مثال ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ بھی متعدد بار ایران کا دورہ کرچکے ہیں جب کہ ایران کے ساتھ صدور اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی الجزائر کے بہ کثرت دورے کرتے رہے ہیں۔

جنوری 2016ء میں الجزائر میں ایرانی سفارت کاروں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نیا تنازع پیدا ہوا۔ عوامی حلقوں کی طرف سے کہا گیا کہ الجزائری سفارت خانہ بالخصوص ثقافتی مشیر امیر موسوی ملک میں اہل تشیع کے فروغ کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ شہریوں نے انہیں ملک بدر کرنے کی مہم چلائی۔ اس مہم کا خاطر خواہ اثر ہوا تاہم الجزائر نے امیر موسوی کو ملک بدر نہیں کیا۔۔