امریکا کی جانب سے مسافروں کے سامان کو ان اشیاء سے خالی کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں ٹرانسپورٹ سکیورٹی کی انتظامیہ نے دھماکا خیز مواد کو چھپائے جانے کے امکان کے اندیشے سے گزشتہ موسم گرما سے امریکی مسافروں کے الکٹرونک آلات کی چیکنگ کو مزید سخت کر دیا۔

متعلقہ عہدے داران کے مطابق انتظامیہ چاہتی ہے کہ دیگر ممالک کے ہوائی اڈوں پر بھی امریکا کا رخ کرنے والے مسافروں کے الکٹرونک آلات کی چیکنگ کو سخت بنایا جائے۔

جولائی 2017ء سے امریکی انتظامیہ نے اندرون ملک تمام پروازوں کے مسافروں سے اس مطالبے کا آغاز کیا تھا کہ وہ ایسے تمام برقی آلات کو خصوصی تلاشی کے واسطے اپنے سامان سے نکال دیں جن کا حجم موبائل فون سے بڑا ہو۔ ان میں ٹیبلیٹ، برقی کتابیں اور وڈیو گیمز کے کنسولز شامل ہیں۔

امریکی ٹرانسپورٹ سکیورٹی کی جانب سے جاری نئی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی ہوائی اڈوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکی ٹرانسپورٹ سکیورٹی کی 2017ء کے وسط سے لاگو پالیسی کو اپنائیں۔ اس حوالے سے مسافروں کو کھانے پینے کی اور ایسی دیگر اشیاء باہر نکال کر چیک کرانا ہوں گی جن کا معائنہ اسکینررز میں باریک بینی سے نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے ارسال کردہ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ "امریکا سوٹ کیسز اور بیگز کو مذکورہ اشیاء سے خالی کرنے کے حوالے سے غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ تعاون کے لیے کوشاں ہے"

امریکی انتظامیہ کی یادداشت کا مقصد 105 ممالک کے 280 ایسے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تلاشی ہے جہاں سے پروازیں امریکا کا رخ کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ روزانہ 2100 پروازوں کے ذریعے تقریبا 3.25 لاکھ مسافر امریکا پہنچتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں