یمن میں فوجی تعاون مذہبی ذمہ داری ہے: صدرعمر البشیر

سوڈان کے 1500 سپاہی یمن کے لیے قائم عرب اتحادی فوج میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے واضح کیا ہے کہ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم کردہ عرب فوجی اتحاد میں ان کی فوج کی موجودگی سوڈان کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

العربیہ کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر البشیر نے کہا کہ لوگ استفسار کرتے ہیں کہ سوڈان نے اپنی فوج یمن میں کیوں تعینات کی ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ یمن کے لیے قائم عرب اتحاد میں ہماری شمولیت ہماری دینی اقدار کا اور اخلاقی میراث کا تقاضا ہے۔ ہم دہشت گردی اور جارحیت کے خلاف جدو جہد کررہے ہیں۔ ہم اس وقت تک عرب اتحاد کا حصہ رہیں گے جب تک ہمارے مقاصد پورے نہیں ہوجاتے۔

خیال رہے کہ یمن میں سوڈان کے تناھز بریگیڈ کے پندرہ سو فوجی افسر اور سپاہی شامل ہیں۔ تمام عرب ممالک نے سوڈان کی یمن جنگ میں شمولیت کو سراہا ہے جب کہ خود سوڈانی فوج بھی حوثیوں کے خلاف لڑنے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کررہی ہے۔

سوڈانی صدر محمد عمر البشیر بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ یمن سے فوج اس وقت تک واپس نہیں بلائیں گے جب تک یمن میں حکومت کی رٹ بحال اور سعودی عرب کو حوثیوں کی طرف سے لاحق خطرات کم نہیں ہوجاتے۔

صدر البشیر کا کہنا ہے کہ یمن میں ہماری جنگ حرمین کے دفاع کی جنگ ہے۔ ہم اجرتی قاتل نہیں بلکہ حرمین کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں