.

ایران : صدر روحانی کی ٹیلی گرام پر پابندی کے عدالتی فیصلے پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے پیغام رسانی کی مقبول ایپلی کیشن ٹیلی گرام پر عدالت کی جانب سے پابندی کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور اس کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے انسٹا گرام پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ قانونی طریق کار کی پاسداری میں ناکامی ، طاقت اور عدالتی ذرائع کا استعمال جمہوریت کے منافی ہے۔ٹیلی گرام کو حکومت نے فلٹر اور بلاک کیا ہے اور نہ اس نے اس کی منظوری دی ہے‘‘۔

ایرا ن نے اسی ہفتے ٹیلی گرام کو قومی سلامتی کے تحفظ کے نام پر بلاک کردیا ہے حالانکہ اس کو شہری ، سرکاری میڈیا ، سیاست دان اور کمپنیاں پیغام رسانی کے لیے عام استعمال کرتی رہے ہیں ۔ایرانی حکام جنوری میں عوامی احتجاجی تحریک کے بعد سے ٹیلی گرام پر پابندی پر غور کررہے تھے۔

ایرانی شہریوں نے اسی سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے ۔بعض حکام کا کہنا تھا کہ مظاہرین حکومت مخالف ریلیوں کو منظم کرنے کے لیے ٹیلی گرام استعمال کرتے رہے تھے۔اس ایپ کو جنوری میں بھی عارضی طور پر بلاک کردیا گیا تھا۔

ایرانی رجیم کے کرتا دھرتا شیعہ علماء ملک میں حکومت مخالف کسی قسم کی بدامنی یا تحریک نہیں چاہتے ہیں کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی کو ایران سے جوہری سمجھوتے کی توثیق نہیں کرتے اور اس سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو امریکی پابندیوں کی بحالی کی صورت میں ایرانی عوام حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرسکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے شہریوں پر بہت سی ویب گاہوں تک رسائی پر پابندی عاید کررکھی ہے لیکن بہت سے ایرانیوں نے اس پابندی کا بھی توڑ کررکھا ہے۔وہ وی پی این سوفٹ وئیر کو استعمال کرکے ان ویب گاہوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور ان سے ان کے کمپیوٹرز سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے جیسے وہ کسی بیرون ملک میں بیٹھ کر کام کررہے ہوں۔