.

ایران نواز حوثی باغی خطے کے لئے خطرہ ہیں: ترکی المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ یمن میں امن و سلامتی کے آنے سے سعودی عرب، خلیجی ممالک اور خطے میں بھی امن کو فروغ ملے گا۔

سعودی وزارت خارجہ کے ٹویٹر اکائونٹ پر جاری کئے جانے والے ایک بیان میں نوری المالکی کا کہنا تھا "ایرانی یمن کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے لئے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے ابھاء انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے خودکش حملے کئے ہیں اور دوسری طرف باب المندب اور بحیرہ احمر کو تیز رفتار کشتیوں سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا "ان کے اپنے [ایرانی] ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ باغیوں کی لینڈ کروز میزائلوں کے ذریعے سے مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔"

یمن میں حزب اللہ طرز کی حکومت

علاوہ ازیں سعودی عرب کے یمن میں سفیر محمد الجابر کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیائیں یمن میں حزب اللہ کی طرز کی حکومت قائم کرنا چاہتی ہیں۔

سعودی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ایران نواز حوثی باغیوں کی کل تعداد یمنی آبادی کا 1-3 فیصد بھی نہیں ہیں مگر اس کے باوجود وہ یمن میں لبنانی حزب اللہ کا طرز حکومت نقل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حوثی ملیشیائیں یمن میں ایرانی پالیسیوں کا تسلسل رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں جن کی وجہ سے یمنی عوام کو بھوک اور افلاس کا سامنا ہے۔

محمد الجابر نے ایک بیان میں کہا کہ یمن میں 22 بحری، ہوائی اور بری پورٹس ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی تنظیموں کی مدد سے یمن میں درآمدات کو بڑھایا جارہا ہے۔