.

روسی صدر پوتین کی حلف برداری سے قبل حزبِ اختلاف کے لیڈر اور سیکڑوں کارکنان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں پولیس نے صدر ولادی میر پوتین کی چوتھی مدت کے لیے حلف برداری سے قبل حزب ِاختلاف کے لیڈر الیکسئی نوالنی اور سیکڑوں حکومت مخالف کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔

الیکسئی نوالنی نے روس کے 90 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں لوگوں سے صدر پوتین کے زار طرزِ حکمرانی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

ولادی میر پوتین مارچ میں بھاری اکثریت سے چوتھی مرتبہ مزید چھے سال کے لیے صدر منتخب ہوگئے تھے اور اب وہ 2024ء تک برسراقتدار رہیں گے۔اس طرح وہ سوویت یونین کے سابق مطلق العنان صدر جوزف اسٹالن کے بعد طویل عرصہ تک منصبِ صدارت پر فائز ہونے والے لیڈر بن جائیں گے۔اسٹالن قریباً تیس سال تک سوویت یونین کے صدر رہے تھے۔

پولیس نے الیکسئی نوالنی کو ماسکو کے وسطی چوک میں نوجوانوں کی ایک ریلی میں نمودار ہونے کے فوری بعد گرفتار کر لیا تھا۔ریلی میں شریک نوجوان ’’ روس پوتین کے بغیر‘‘ اور ’’ زار مردہ باد‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

ان کی گرفتار ی کی فوٹیج آن لائن پوسٹ کی گئی ہے اور اس میں پانچ پولیس اہلکار انھیں بازوؤں اور ٹانگوں سے پکڑ کر وین میں ڈال رہے ہیں ۔

واضح رہے کہ الیکسئی نوالنی کو صدر پوتین کے مقابلے میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔انھیں ماضی میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔وہ ہزاروں افراد کی ریلیوں سے خطاب کر چکے ہیں اور وہ اس پر خوشی کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کی ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق پولیس ماسکو میں منظم انداز میں مظاہرین کو گرفتار کررہی تھی۔ان میں بعض کے ساتھ سختی سے معاملہ کیا گیا ہے اور انھیں پکڑ پکڑ کر بسوں میں لادا جارہا تھا۔ ادھر ملک کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں مظاہرین کو شہر کے مرکزی چوک میں پہنچنے سے روک دیا گیا ہے۔